سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 198
194 آئندہ کے لئے میں نصیحت کرتا ہوں کہ ایک تو جب تک بچوں کو بلایا نہ جائے انہیں ہمراہ نہ لایا جائے۔آخر کیا وجہ ہے کہ یہ سمجھ لیا جاتا ہے میں اکیلا ہی بچے کو لے جا رہا ہوں اور لوگ اپنے بچے ساتھ نہیں لائیں گے؟ پھر کہیں بھی احادیث سے یہ ثابت نہیں کہ دعوتوں کے موقع پر بچے بھی بلائے جاتے تھے اور اگر اخلاص کی وجہ سے ہی اپنے بچے ہمراہ لائے تھے تو پھر وہی کر لینا تھا جو رسول کریم صلی اللہ والیم نے ایک دفعہ کیا۔آپ نے دعوت کی تو دیکھا کہ لوگوں میں بہت جوش ہے اور وہ سب شامل ہونے کے لئے بے تاب ہیں۔آپ نے فرمایا جو آئے گھر سے کھانا لیتا آئے۔اگر یہاں یہی ہوجاتا تو کوئی دقت نہ ہوتی۔ہر شخص جو دن بلائے آتا اپنے گھر سے کھانا لے آتا اور سب مل کر کھا لیتے۔اور مومنوں میں یہ کوئی شرم کی بات نہیں۔پس اس طرح تو ہم بھی کر سکتے تھے اور اگر یہ نہیں تو پھر تو یہی ہوسکتا ہے کہ چند آدمیوں کی دعوت کر دی جائے اور انہیں کھانا کھلا دیا جائے۔رسول کریم صلی علیہ السلام کے زمانے میں کبھی یہ شکایت نہیں سنی گئی کہ پچاس آدمی کو کیوں بلالیا گیا، مدینہ کے تمام افراد کو کیوں شامل نہیں کیا گیا۔پہلے میرا ارادہ تھا کہ عورتوں کی بھی اسی رنگ میں دعوت کی جاتی مگر پھر میں نے کہا کہ اگر عورتیں بھی اسی طرح آئیں تو پہلی غلطی دہرائی جائے گی۔اس لئے اپنی رشتہ دار عورتیں اور چند دیگر عورتوں کو بلا لیا گیا (خطبات محمود جلد ۵ صفحه ۲۲۸) اس خطبہ میں دعوت ولیمہ کے متعلق جن خیالات کا اظہار کیا گیا ہے اور جو ہدایات جماعت کو دی گئی ہیں وہ ایسی ہیں کہ ہم میں سے ہر شخص کو پیش نظر رکھنی چاہئیں۔حضور جماعت کی تربیت کی خاطر ایک شفیق اور سمجھدار باپ کی طرح بوقت ضرورت فہمائش اور سختی کو بھی کام میں لاتے تھے مگر اس کے ساتھ ساتھ حوصلہ افزائی اور ہمت بڑھانے والی باتوں کو بھی نظر انداز نہ فرماتے۔ایک موقع پر آپ نے جماعت کو بڑے زور دار انداز میں قربانی کرنے کی طرف توجہ دلائی اور بعض سستی کا مظاہرہ کرنے والوں کا ذکر بھی فرمایا مگر اس سے اگلے خطبہ میں ہی اس مضمون کے تسلسل میں قربانی کی اچھی مثالوں کو پیش کرتے ہوئے جماعت کو بڑھ چڑھ کر قربانی پیش کرنے کی تلقین فرمائی۔آپ کے اس مفصل اور طویل خطبہ کا ایک اقتباس درج ذیل ہے۔جس سے آپ کا یہ پیارا انداز نمایاں ہوتا ہے :- ہر جنگ جو وطن کی حفاظت کے لئے لڑی جائے اس میں ایک احمدی کو وو