سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 197
193 باقی تمام بچے ایسے تھے جنہیں بلایا نہیں گیا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ ہمیں تاریخوں پر غور کرنے سے کبھی معلوم نہیں ہوا کہ رسول کریم صلی العلی الہ وسلم کے زمانہ میں ولیموں میں بچے بلائے جاتے ہوں۔یہ تو ایک دعا کی تحریک ہوتی ہے۔اور اس میں بڑی عمر کے لوگوں کا شریک ہونا ضروری ہوتا ہے مگر مجھے بتایا گیا ہے پانچ چھ سو کے قریب بچے دعوت میں شامل تھے۔۔غرض یہ بھی ایک نادانی تھی۔جس کا بعض دوستوں سے اظہار ہوا مگر ان سب سے زیادہ بُری چیز یہ تھی کہ انہوں نے میزبان کی ہتک کی۔آخر جب اتنی کثرت سے لوگ آجائیں گے اور انہیں کھانے کو نہیں ملے گا تو کیا اس میں میزبان کی عزت ہے۔لوگ یہی کہتے جائیں گے کہ ہمیں بلا یا مگر کھلا یا نہیں اور اگر میں یہ کہوں کہ لوگ بن بلائے آگئے تو یہ بھی کتنی بُری بات ہے۔بوجہ امام ہونے کے اس کی شرم بھی تو مجھے ہی آئے گی۔پس میں اگر نہ بولوں تب بھی مصیبت کیونکہ لوگوں کی تربیت نہیں ہو سکتی اور اگر کہوں کہ لوگ بن بلائے آ گئے تو بھی مصیبت۔کیونکہ لوگوں کو حرف گیری کا موقع ملے گا“ خطبات محمود جلد ۵ صفحه ۲۲۷٬۲۲۶) پھر فرمایا : - پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ انہیں یہ امر سمجھنا چاہئے کہ جو امر ناممکن ہوا سے کس طرح کیا جا سکتا ہے۔اول تو ساری جماعت کو انتظامی لحاظ سے بلا یا نہیں جاسکتا دوسرے مالی لحاظ سے بھی دقت ہوتی ہے۔پھر دفتر والوں کو بھی چاہئے تھا کہ وہ ٹکٹ جاری کرتے۔یہ بھی غلطی ہوئی ہے۔قرعہ کی تجویز مجھے اس لئے پسند نہیں کہ اس میں یہ دقت ہو سکتی ہے کہ بعض دفعہ ایک شخص کا ہی نام بار بار نکلتا رہے اس لئے آئندہ یہ طریق اختیار کرنا چاہئے۔کہ باری باری لوگوں کو دعوت میں شامل کیا جائے۔سوائے ایسے کارکنوں کے جن کا قریب رہنا ہر دعوت میں ( شرعی ) یا تمدنی طور پر ضروری ہوتا ہے۔بہر حال اس نظام میں اصلاح کی ( خطبات محمود جلد ۵ صفحه ۲۲۷) ضرورت ہے“ پھر فرمایا:-