سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 151
147 میر صاحب یوں کہتے ہیں۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا۔میں نے امتحان لیا تھا۔اتنا برا تو نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اچھا ہم خود امتحان لیتے ہیں۔اس پر آپ نے ایک فقرہ لکھ کر فرمایا۔یہ لکھو۔میں نے وہ لکھ دیا۔اسے دیکھ کر فرمانے لگے یہ تو خوب لکھ سکتا ہے۔اس وقت میں ساتویں یا آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا مگر آپ نے میرا یہ امتحان لیا کہ ایک فقرہ نقل کرایا۔تو اللہ تعالی نے مجھے امتحانوں سے بھی بچایا۔جن امتحانوں میں خود پڑے ان سب میں فیل ہوئے اور جن امتحانوں کے لئے آپ نہ گئے ان کو خدا تعالیٰ نہ لایا۔تو اپنی ذات کے متعلق تو میں کہ سکتا ہوں کہ میں ہرگز اس کام کے قابل اپنے آپ کو نہیں پاتا جس کے لئے خدا تعالیٰ نے کھڑا کیا اور میں تو اس کام کے قابل بھی اپنے آپ کو نہیں پاتا جو اپنے طور پر کرتا ہوں۔ہاں میں یہ ضرور محسوس کرتا ہوں کہ میرے پیچھے ایک اور ہستی ہے اور ایک بالا طاقت ہے جب میرا قدم چلنے سے اور ہاتھ اٹھنے سے رہ جاتے ہیں تو وہ ہستی آپ اٹھاتی ہے اور آسمان کی بلندیوں پر لے جاتی ہے۔وہی طاقت ہر احمدی کے پیچھے ہے جو اپنی ذات کے متعلق تکبر نہیں کرتا وہ اسے اُٹھاتی ہے اور آئندہ بھی اُٹھائے گی۔“ ( رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۸، صفحہ ۸۷ ) اسی مضمون پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے آپ ایک اور موقع پر فرماتے ہیں۔میں نے کبھی کوئی امتحان پاس نہیں کیا لیکن سلسلہ میں جب بعض ایم۔اے بی۔اے اور مولوی فاضل خیال کرنے لگے کہ ہماری وجہ سے کام ہورہا ہے تو خدا تعالیٰ نے ان کے خیال کو غلط ثابت کرنے کے لئے ایک ایسے شخص کو منتخب کیا جسے دنیا کبھی کوئی وقعت نہ دیتی۔میں انگریزی تعلیم سے محروم ہوں بلکہ جن معنوں میں آجکل سمجھا جاتا ہے عربی سے بھی لیکن خدا تعالیٰ نے مجھے کھڑا کر کے میرے ذریعہ دونوں انگریزی اور عربی دانوں کو شکست دیدی۔میں ابھی میدان سے نہیں ہٹا اور میرے دشمن بھی ابھی نہیں ہے اور میں نہیں جانتا کہ میری باقی عمر ایک منٹ ہے یا پچاس سال لیکن خدا تعالیٰ میرے ذریعہ میرے مخالفوں کو ایسی شکست دے گا جو تاریخی ہوگی۔اگر وہ کہیں کہ پہلے ہمیں پتہ نہ تھا کہ تم چیلنج