سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 126 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 126

126 کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر انہوں نے مقابلہ کیا تو ان کا پول کھل جائے گا“ الفضل ۱۳۔جولائی ۱۹۴۱ ، صفحہ ۷ ) اس لحاظ سے بھی ہم میں اور غیر مبائعین میں کیسا عظیم الشان فرق ہے۔دونوں طرف کے لیڈروں کو ہی لے لو میرے صرف ایک سال کے رویا وکشوف اور الہامات اگر جمع کئے جائیں تو وہ مولوی محمد علی صاحب کی ساری عمر کے خوابوں سے بڑھ جائیں گے پھر اگر ان رؤیا و کشوف اور الہامات کو لے لیا جائے جو پورے ہونے سے پہلے غیر مذاہب والوں کو بتا دیے گئے تھے تو اس میں بھی مولوی محمد علی صاحب میرا مقابلہ نہیں کر سکتے، الفضل ۱۳۔جولائی ۱۹۴۱ ء صفحہ ۸ ) علیم قرآن کے بارے میں مولوی صاحب ( مولوی محمد علی صاحب ناقل ) کو بار بار مقابلہ کا چیلنج دے چکا ہوں اور اب پھر کہتا ہوں کہ اگر انہیں علم قرآن کا دعویٰ ہے تو وہ میرے سامنے بیٹھ جائیں اور تفسیر نویسی میں مجھ سے مقابلہ کر لیں لیکن وہ کبھی بھی اس طرف نہیں آئے اور مجھے یقین ہے کہ اب بھی نہ آئیں گئے (الفضل ۸۔دسمبر ۱۹۳۸ء صفحه ۴ ) إِنْشَاءَ اللهُ دنیا دیکھ لے گی کہ میرے مخالف کامیاب نہ ہوں گے اور اللہ تعالیٰ با وجود ان باتوں کے (لوگوں کو ) میری طرف کھینچ کھینچ کر لاتا جائے گا اور میرے ذریعہ سے إِنْشَاءَ الله احمدیت اور اسلام کی ترقی دنیا کے چاروں گوشوں میں ہوتی جائے گی اور دشمن حسد کی آگ میں جلتا چلا جائے گا الفضل ۸- دسمبر ۱۹۳۸ء صفحه ۵) شدید مخالفت، ذاتی حملے، اخلاق سوز بیانات کے مقابل پر حضور محض اس لئے خاموش ا رہتے تھے کہ شریعت کا یہی تقاضا ہے تاہم اس امر سے بعض لوگوں کو یہ وسوسہ ہو سکتا تھا کہ حضور قسم سے بچنے کے لئے اور اپنے جھوٹ کو چھپانے کے لئے یہ باتیں بیان کرتے ہیں۔حضور نے ان امور کی وضاحت کے لئے ایسے امور جن پر قسم کھانا آپ کے نزدیک جائز تھا حلف اُٹھاتے ہوئے اپنے مدلل بیان میں فرمایا : - وہ (مصری صاحب) مجھے کہتے ہیں کہ اگر وہ الزامات جو مجھ پر لگاتے ہیں جھوٹے ہیں۔تو میں مؤكّد بعذاب قسم کھاؤں حالانکہ مستریوں کے مقابلہ