سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 107 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 107

107 کے انعام میں مجھے طلائی تمغہ یونیورسٹی نے دیا۔الْحَمْدُ لِلَّهِ۔یہ ہے حضرت خلیفتہ المسیح کی دعاؤں کی معجز نمائی۔مادی دنیا کی بے بسی مجھ پر تین طور پر ظاہر ہو گئی اور میں نے دیکھ لیا کہ خدا تعالیٰ کس طرح مردے زندہ کرتا ہے۔پیارے امام اور احباب سے عرض ہے کہ میری کامل صحت کے لئے دعا فرما ئیں۔نیز اس بات کی کہ میر اعلم اور میری بقیہ عمر احمدیت کی خدمت میں صرف الفضل ۸جنوری ۱۹۳۵ء صفحه ۸) و- اللَّهُمَّ امِينَ اللہ تعالیٰ کے فضل سے سید اختر احمد صاحب اور مینوی صاحب نے لمبی عمر پائی۔تعلیمی وادبی ہو۔میدان میں نمایاں خدمات سرانجام دیں۔جماعتی خدمات میں بھی ہمیشہ پیش پیش رہے۔درخواست دعا بلکہ بیماری سے بھی پہلے بیمار کے شفایاب ہونے کی بشارت کا عجیب واقعہ:- ایک تازہ نشان یہ ہے کہ ۶۔جولائی کو کنری (سندھ) سے مکرم میاں عبدالرحیم احمد صاحب نے حضرت (خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ) کو بذریعہ تارا اپنی صاحبزادی کی (جو حضور کی نواسی اور صاحبزادی امتہ الرشید بیگم صاحبہ کی بیٹی ہیں ) شدید بیماری کی اطلاع دے کر دعا کی درخواست کی۔یہ تار ۸۔جولائی کو ڈلہوزی میں حضور کو ملا اور حضور نے تار پڑھتے ہی دعا فرمائی اور اس کی پشت پر یہ جواب رقم فرمایا کہ ” میں نے آج خواب میں نوشی (صاحبزادی موصوفہ کا پیار کا نام) کو دیکھا کہ وہ آئی ہے اور مجھے آکر گلے ملی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اسے صحت دے۔بظاہر تو خواب مبارک معلوم ہوتی ہے۔وَاللهُ أَعْلَمُ “ یہ جواب اسی وقت لکھ کر میاں عبد الرحیم احمد صاحب کو بھیج دیا گیا اس کے بعد خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے صاحبزادی صاحبہ موصوفہ کو صحت بخشی اور بیماری کے سخت حملہ سے بچا کر شفا عطا فرمائی اور اس طرح اس بیماری سے بھی قبل حضرت (خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ) کو اس کی صحت کی جو بشارت دی گئی تھی وہ پوری ( الفضل ۸ ستمبر ۱۹۴۵ صفحه ۱ ) 66 ہوگئی۔“ مندرجہ ذیل ایمان افروز واقعہ مکرم محمدشفیع صاحب نے نئی دہلی سے تحریر کیا جو الفضل مؤرخہ ۲۹۔جنوری ۱۹۴۲ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی قبولیت دعا کا ایک نشان کے عنوان