سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 85 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 85

۸۵ جس کام کا ارادہ حضور کر لیں آپ اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔اس وقت تمام فکر و تدبیر مشغولیت و مصروفیت اور حضور کی ہمہ تن توجہ اس کام کیلئے وقف شدہ معلوم ہوتی تھی لیکن جلدی بعد میں جب آنے والے واقعات نے ہماری آنکھیں کھولیں تو حضور کی عجلت پسندی اور فکر اور گرمجوشی ہمارے لئے دست غیب کا ایک کرشمہ تھا جو حضور کے ہاتھ پر ظاہر ہوا کیونکہ اس کے بعد بہت جلدی جماعت احمدیہ کے خلاف تعصب بغض و عناد اور حسد اور نفرت کا لاوا اندر ہی اندر پکنا شروع ہو گیا۔اور جوں جوں دن گذرتے گئے جماعت احمدیہ کے ساتھ ہمدردی اور خیر سگالی کا جذبہ جو قادیان اور اس کے گردو نواح میں مسلمانوں کی حفاظت کیلئے احمدیوں کے مثالی مومنانہ ایثار اور استقلال کی وجہ سے پیدا ہوا تھاوہ افتراء و کذب بیانی اور منافرت کے لاوا میں دبتا گیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ہماری ہر بات کو نا کام کرنے کی کوشش کی جانے لگی۔ایسے حالات میں کوئی یہ خیال بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ربوہ کی سرزمین کا حاصل کرنا ہمارے واسطے ممکن ہو گا۔ربوہ کی زمین کا اس طرح حاصل ہونا ایک معجزہ ہے۔جو اور جس طرح کی کوشش ان دنوں حضور نے کی اس میں ایک گھنٹہ کی غفلت بھی مقصد کی کامیابی میں دنوں کا التواء اور دنوں کی غفلت مہینوں کا التواء ثابت ہوتی۔اور چند مہینوں کی غفلت تو غالبا اصل مقصود اور مدعا اور اس کیلئے جو اقدام کیا گیا تھا یہ سب کو شش منفی ثابت ہوتی۔پس ربوہ مرکز فانی کا وجود ایک معجزہ ہے جو حضرت موعود اولو العزم اور مصلح اور امام ربانی کے ہاتھ پر ظاہر ہوا۔" (الفضل ۷۔جون ۱۹۶۴ء) حضور نے زمین کی خرید اور حصول کیلئے ہنگامی بنیادوں پر دن رات حصول زمین کی کوشش کام کیا اور قبضہ ملنے کے بعد بغیر کسی تاخیر کے کوئٹہ سے مندرجہ ذیل مفصل ہدایات جاری فرمائیں۔ان ہدایات کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ حضور نے تعمیر و آبادی کے سلسلہ میں ہر امکانی پہلو کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کے متعلق معین و مفید پروگرام تجویز فرمایا۔فور کا ایک کمیٹی اس لئے بنادی جائے کہ :۔جگہ کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا جائے کہ مرکزی دفتر کہاں بنائے جائیں گے۔مقبرہ کہاں ہو گا۔(مقبرے دو ہونے چاہئیں عام اور مقبرہ بہشتی مسجد کالج سکول ، مدرسہ احمدیہ کالج احمدیہ