سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 541 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 541

۵۴۱ تبادلہ خیال کیا ہے مسلم قوم کے لئے تو ان کا وجود سرا پا قربانی تھا۔مجھے ایک دفعہ راتوں رات قادیان جا کر حضرت صاحب سے مشورہ کرنا پڑاوہ منظر اب بھی آنکھوں کے سامنے ہے۔انسانیت کے لئے ان کے دل میں بڑا درد تھا اور جہاں کہیں مسلم قوم کی بہتری اور بہبودی کا مسئلہ در پیش ہو تا ان کی قابل عمل تجاویز ہمارا حوصلہ بڑھانے کا موجب بنتیں۔ایسے موقع پر آپ کا رواں رواں قومی درد سے تڑپ " اٹھتا تھا۔فرقہ بازی کا تعصب میں نے اس وجود میں نام کو نہیں دیکھا۔مرزا صاحب بلا کے ذہین تھے۔میں نے پاک و ہند میں سیاسی نہ مذہبی لیڈر ایسا دیکھا ہے جس کا دماغ پولیٹیکل پالیٹکس میں ایسا کام کرتا ہو جیسا مرزا صاحب کا دماغ کام کرتا تھا بے لوث مشورہ واضح تجویز اور پھر صحیح خطوط پر لائحہ عمل یہ ان کی خصوصیت تھی۔مجھے ان کی وفات پر بڑا صدمہ ہوا۔۔۔افسوس مسلمانوں نے مرزا صاحب کی قدر نہیں کی مخالفت کی سخت آندھیوں کے باوجود میں نے مرزا صاحب کو کبھی افسردہ اور سرد مہر نہیں دیکھا۔مرزا صاحب کے دل کی شمع ہمیشہ روشن رہتی۔ہم یاس و افسردگی کی تصویر بنے ان سے ملاقات کے لئے جاتے اور جب ان کے کمرہ سے باہر آتے تو یوں معلوم ہو تاکہ ناامیدی کے بادل چھٹ چکے ہیں اور مقصد میں کامیابی سامنے نظر آ رہی ہے۔وزنی دلیل دیتے قابل عمل بات کرتے اور پھر اس پر بس نہیں ہر نوع کی قربانی اور تعاون کی پیشکش بھی ساتھ ہوتی جس سے ہم میں جرأت اور حوصلے کے جذبات پیدا ہوتے۔" اقبال اور احمدیت صفحه ۵۰۲ - ۵۰۳) اسی طرح ایک اور ادیب و صحافی سید ابو نازش ظفر رضوی نے حضور کی وفات پر لکھا۔افسوس کہ وہ وجود جو انسانیت کے لئے سراپا احسان و مروت تھا آج اس دنیا میں نہیں وہ عظیم الشان سپر آج پیوند زمین ہے جس نے مخالفین اسلام کی ہر تلوار کا وار اپنے سینے پر برداشت کیا مگر یہ گوارا نہ کیا کہ اسلام کو گزند پہنچے۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کی وفات سے جماعت احمد یہ یقیناً بہت غمگین ہے کیونکہ اس کا وہ امام اور سر براہ رخصت ہو گیا جس نے اس جماعت کو بنیان مرصوص بنا دیا لیکن اس جماعت سے باہر بھی ہزاروں ایسے افراد موجود ہیں جو اختلاف عقائد کے باوجود آپ کی وفات کو دنیائے اسلام کا ایک عظیم سانحہ سمجھ کر بے اختیار اشکبار ہیں۔