سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 540 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 540

۵۴۰ بنانا چاہتے ہیں اس طرح سے ریاستی مسلمانوں میں پھوٹ کی ابتداء پڑ گئی جو کہ سالہا سال تک جاری رہی لیکن اس الزام تراشی کے باوجود کشمیر کے معاملات میں مرزا صاحب کی دلچپسی اس سے کم نہیں ہوئی۔" روزنامہ جنگ کراچی نے اپنی ۱۰۔نومبر ۱۹۶۵ء کی اشاعت میں لکھا۔وو ان کی عمرے ۷ سال تھی۔انہیں کل صبح ربوہ میں دفن کیا جائے گا تمام دنیا میں مرحوم کے ۳۰ لاکھ معتقدین ہیں اور ان کے مبلغوں اور داعیوں کا جال بچھا ہوا ہے۔مرزا بشیر الدین محمود نے جو ۱۹۱۴ ء میں اپنے فرقہ کے خلیفہ منتخب کئے گئے تھے۔بڑی پر مشقت زندگی گزاری۔انہوں نے یورپ امریکہ اور افریقہ میں خاص طور پر زبر دست تبلیغی مساعی کیں اور اس مقصد کے لئے دو بار مغربی ممالک کا دورہ بھی کیا تبلیغی وفود کو افریقہ کے مغربی ساحل پر واقع ممالک میں کافی کامیابی بھی ہوئی۔مرزا صاحب نے اپنی یادگار کے طور پر خاص مذہبی لٹریچر چھوڑا ہے۔انہوں نے سیاسی تحریکوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔۔۔۔۔۔۔۱۹۲۲ء میں انہوں نے یوپی میں آریہ سماجیوں کی شُدھی سنگھٹن تحریک کا مقابلہ کیا اور ۱۹۳۱ء میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی قیادت کی اور ۱۹۴۸ء میں تحریک آزادی کشمیر میں حصہ لینے کے لئے احمد یہ رضا کاروں کی ایک بٹالین کی خدمات حکومت کو پیش کیں۔۔احمدید اس کے علاوہ روزنامہ نئی روشنی کراچی روزنامه حریت کراچی، روز نام انجام کراچی روزنامہ جنگ راولپنڈی، روزنامہ تعمیر راولپنڈی اور دوسرے متعدد اخبارت و رساکا نے بھی حضور کو خراج عقیدت پیش کیا۔اس موقع پر اندرون و بیرون پاکستان کے دانشوروں صحافیوں اور سیاسی و مذہبی رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد نے حضور کو خراج تحسین پیش کیا۔ذیل میں صرف دو دانشوروں کے تاثرات پیش کئے جارہے ہیں۔مولانا غلام رسول مہر ( مشہور صحافی و مورخ) جو حضور کے بہت قریب تھے اور کئی مواقع پر حضور کی رہنمائی میں خدمات سرانجام دینے کی توفیق بھی پائی لکھتے ہیں۔" آپ لوگوں کی کسی کتاب میں اس عظیم الشان انسان کے کارناموں کی مکمل عکاسی نہیں ملتی۔ہم نے انہیں قریب سے دیکھا ہے۔کئی ملاقاتیں کی ہیں۔پرائیویٹ