سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 535 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 535

۵۳۵ جسم کو چھوڑ دینے کے بعد معجزانہ طور پر پھر واپس لوٹ آنا محض ہمارے دلوں کو سکینت عطا کرنے کی خاطر تھا اور خدا تعالیٰ کی طرف سے گویا ایک فضل و احسان کا چھایا تھا جو ہمارے قلوب پر رکھا گیا۔چنانچہ اس کے تقریباً بیس منٹ کے بعد حضور کو اپنے آسمانی آقا کا آخری بلاوا آ گیا۔اس وقت کا منظر اور کیفیت نا قابل بیان ہیں۔ہم نے آسمان سے صبر اور سکینت کو اپنے قلوب پر نازل ہوتے ہوئے دیکھا اور یوں محسوس ہوا جیسے ضبط و تحمل کی باگ ڈور رحمت کے فرشتوں کے ہاتھوں میں ہے۔آنکھوں سے آنسو ضرور جاری تھے اور دلوں سے دعا ئیں بھی بدستور اٹھ رہی تھیں مگر سب دل کامل طور پر راضی برضا اور سب سر اپنے معبود خالق و مالک کے حضور جھکے ہوئے تھے۔ہم ٹکٹکی لگا کر اسی طرح خدا جانے کب تک اس پیارے چہرے کی طرف دیکھتے رہے جسے موت نے اور بھی زیادہ معصوم اور حسین بنا دیا تھا۔اس تقدس کے ماحول میں جس کی فضاء ذکر الہی سے معمور تھی اور جس کی یاد کبھی فراموش نہیں کی جاسکتی۔حضور کی نعش مبارک نور میں نہائی ہوئی ایک معصوم فرشتے کی طرح پڑی تھی۔دل بے اختیار ہم سب کے دل و جان سے زیادہ پیارے آقا حضرت رسول اکرم میں تو دلم پر درود بھیجنے کے بعد یہ کہتا تھا یا يّتها النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِى إِلى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّة ۸۔نومبر ۱۹۶۵ء کو یہ دور تکمیل کو پہنچا۔اس دور کی محیر العقول غیر معمولی کامیابیوں کے پس پر دہ یقینا خدائے قادر و توانا کا مضبوط ہاتھ تھا جس نے آپ کی پیدائش سے قبل آپ کی غیر معمولی خوبیوں کی خوشخبری دے رکھی تھی۔حضور کی عظیم الشان قیادت کا پوری طرح احاطہ کرنا نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔خدا تعالیٰ نے فرزند موعود کی خوبیوں اور صفات کو بیان کرتے ہوئے تمثیلی زبان میں اس کی شان میں فرمایا كَاَنَّ اللهَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ ایسے وجود کی شاندار کامیابیوں، ترقیوں اور ہمہ جہتی عروج و عظمت کی داستان کے بیان کا پوری طرح حق ادا کرنا۔این خیال است و محال است و جنوں سوانح کا زیر نظر کام کسی طرح بھی مکمل اور مثالی نہیں ہے تاہم اس فدائی ملت کے کارنامے مرور زمانہ کے ساتھ مدھم ہونے کی بجائے زیادہ نمایاں ہوتے چلے جائیں گے اور اس موضوع پر تحقیق و تحریر کا کام بھی ہمیشہ جاری رہے گا۔