سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 528
۵۲۸ اور شوری کے موضوع پر علمی بحث کرنے کے بعد آخر میں فرمایا۔میں نے خلافت کا مذکورہ بالا قاعدہ بنایا ہے جس پر پچھلے علماء بھی متفق ہیں۔محدثین بھی اور خلفاء بھی متفق ہیں۔پس وہ فیصلہ میرا نہیں بلکہ خلفاء محمد علی ایم کا ہے اور صحابہ کرام کا ہے اور علماء امت کا ہے جن میں حنفی ، شافعی ، وہابی سب شامل ہیں۔۔۔۔۔۔۔حضور نے مذکورہ بالا مجلس انتخاب میں بعد میں بعض اور ناموں کا اضافہ فرمایا جیسے امیر جماعت احمدیہ قادیان اور ممبران صدر انجمن احمدیہ قادیان۔اس کے علاوہ حضور نے انتخاب خلافت کے سلسلہ میں مجلس علماء کی تجویز کے مطابق بطور بنیادی قانون یہ فیصلہ فرمایا کہ آئندہ انتخاب خلافت کے لئے یہی قانون جاری رہے گا سوائے اس کے کہ دوبارہ خلیفہ وقت کی منظوری سے شوری میں یہ مسئلہ پیش کیا جائے اور شوری کے مشورہ کے بعد خلیفہ وقت کوئی اور تجویز منظور کرے۔“ ( الفضل ۲۳۔مارچ کے ۱۹۵ء) ۱۹۵۹ء کے سالانہ اجتماع خدام پر حضور نے ایک تاریخی عہد لیا جس کے الفاظ یہ ہیں۔اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَ اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ - ہم الله تعالی کی قسم کھا کر اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ہم اسلام اور احمدیت کی اشاعت اور محمد رسول اللہ میں اللہ کا نام دنیا کے کناروں تک پہنچانے کے لئے اپنی زندگیوں کے آخری لمحات تک کوشش کرتے چلے جائیں گے اور اس مقدس فرض کی تکمیل کے لئے ہمیشہ اپنی زندگیاں خدا اور اس کے رسول کے لئے وقف رکھیں گے اور ہر بڑی سے بڑی قربانی پیش کر کے قیامت تک اسلام کے جھنڈے کو دنیا کے ہر ملک میں اونچا رکھیں گے۔ہم اس بات کا بھی اقرار کرتے ہیں کہ ہم نظام خلافت کی حفاظت اور اس کے استحکام کے لئے آخر دم تک جدوجہد کرتے رہیں گے اور اپنی اولاد در اولاد کو ہمیشہ خلافت سے وابستہ رہنے اور اس کی برکات سے مستفیض ہونے کی تلقین کرتے رہیں گے۔تاکہ قیامت تک خلافت احمدیہ محفوظ چلی جائے۔اور قیامت تک سلسلہ احمدیہ کے ذریعہ اسلام کی اشاعت ہوتی رہے۔اور محمد رسول اللہ میں ایم کا جھنڈا دنیا کے تمام جھنڈوں سے اونچا لہرانے لگے۔اے خدا تو ہمیں اس عہد کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرما۔اللهم أمِيْنَ اللَّهُمَّ مِيْنَ اللَّهُمَّ أَمِينَ - ا