سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 526
۵۲۶ ایسی حرکات بھی سرزد ہو جاتی ہیں جو اس کی ثقاہت وجاہت اور بلند اخلاق سے کسی طرح بھی مطابقت نہیں رکھتیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ نہ صرف یہ کہ ایسے مواقع پر معمول کے مطابق پر سکون اور ہشاش رہتے تھے بلکہ آپ کی خداداد صلاحیتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا تھا۔ہر وہ خوش قسمت جسے ایسے مواقع پر آپ کے ساتھ کام کرنے کی سعادت حاصل ہوئی وہ اس امر کا گواہ ہے کہ سب سے زیادہ محنت ، سب سے زیادہ توجہ اور سب سے زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ حضور کے ناتواں اور کمزور جسم سے ہی ہو تا تھا۔ایسے مشکل مواقع پر سارے کام کی باگ ڈور حضور کے اپنے دست مبارک میں ہوتی تھی اور آپ کی طرف سے یہ مستقل اور تاکیدی ہدایت بھی تھی کہ جیسے ہی کوئی رپورٹ موصول ہو بلا تاخیر حضور کی خدمت میں پیش کر کے حضور سے رہنمائی حاصل کی جائے۔یہ ایک غیر معمولی اور حیران کن حقیقت ہے کہ دن رات کے چوہیں گھنٹوں میں جب بھی حضور کی خدمت میں کوئی رپورٹ پیش کی گئی آپ کے چہرے مہرے یا کسی حرکت سے کبھی بھی نیند کے غلبہ یا تکان دستی کا اظہار نہ ہو تا بلکہ آپ ہر وقت پوری مستعدی سے رپورٹ کا معائنہ فرماتے اور حسب موقع ہدایات سے نوازتے۔۱۹۵۶ء کے جلسہ سالانہ میں حضرت مصلح موعود نے خلافت حقہ ایک گراں قدر خدمت اسلامیہ کے موضوع پر خطاب فرمایا۔اس پر معارف خطاب میں حضور نے ابتدائے آفرینش سے خدائی سلسلوں کی مخالفت کی تاریخ اور پس منظر بیان کرنے کے بعد ) جماعت میں خلافت کو دائمی بنانے کے لئے خلیفہ کے انتخاب کا طریق کار بیان کرتے ہوئے فرمایا۔اگر جماعت احمد یہ خلافت کے ایمان پر قائم رہی اور اس کے قیام کے لئے " صحیح جد و جہد کرتی رہی تو اس میں بھی قیامت تک خلافت قائم رہے گی۔۔۔۔۔آئندہ جب کبھی خلافت کے انتخاب کا وقت آئے تو صد را انجمن احمدیہ کے ناظر ، ممبر اور تحریک جدید کے وکلاء اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے زندہ افراد۔۔۔۔حضرت مسیح موعود کے صحابہ بھی اور جامعۃ المبشرین کا پرنسپل اور جامعہ احمدیہ کا پرنسپل اور مفتی سلسلہ احمدیہ اور تمام جماعت ہائے پنجاب اور سندھ کے ضلعوں کے امیر اور مغربی پاکستان اور کراچی کا امیر اور مشرقی پاکستان کا امیر مل کر اس کا انتخاب کریں۔" اس تقریر پر نظر ثانی کرتے ہوئے حضور نے اس فہرست میں مندرجہ ذیل اضافہ فرمایا۔ایسے سابق امراء جو دو دفعہ کسی ضلع کے امیر رہ چکے ہوں۔۔۔۔اسی طرح ایسے