سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 525 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 525

۵۲۵ جواب پتھر سے نہ دو بلکہ گالیاں سنو اور خاموش رہو۔اشتعال پیدا ہو تو اس جگہ کو چھوڑ دو کیونکہ یہ سب ہمارے خدا کے امتحان ہیں وہ ہم کو اس روحانی جنگ کے لئے جو اسلام کی فتح کے لئے روحانی ہتھیاروں سے لڑی جانے والی ہے تیار کر رہا ہے اگر اس نے ہم سے ظاہری تلواریں چلوانی ہوتیں تو وہ ہم کو ظاہری حکومت اور ظاہری فوج بھی عطا کر تا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ ہم سے دعا اور صبر کی تلوار چلو انا چاہتا ہے نہ کہ لوہے کی تلوار۔" (الفضل ۲۰۔اگست ۱۹۳۷ء) مخالفت اور فتنوں کا مقابلہ کرنے کے لئے آپ کو غیر معمولی عزم و ہمت سے نوازا جاتا تھا چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔” میری صحت ہمیشہ سے خراب رہی ہے اس صحت کی خرابی کی وجہ سے میری طبیعت پر ہمیشہ ایک بوجھ رہتا ہے اور اگر ذراسی بھی کوئی بیماری آجائے تو وہ اس پرانی بیماری کو اُبھار دیتی ہے لیکن باوجود اس کے کہ ان فتن کی وجہ سے کام بہت زیادہ ہو گیا سوائے آنکھوں کی تکلیف کے کہ میں متواتر دیکھ رہا ہوں میری آنکھیں کمزور ہوتی جا رہی ہیں۔عام صحت میں خدا تعالیٰ کے فضل سے میں ایسی تبدیلی دیکھتا ہوں کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس فتنہ کا ہر ظہور میرے لئے دوا کا کام دے رہا ہے اور مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا فتنے کی موجودگی میں اس کا مقابلہ کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے پورے جسم میں ایک نئی طاقت نئی ہمت نیا ولولہ اور نیا جوش داخل کر دیا جاتا ہے اور اب موجودہ مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے میرے اندر اتنی ہمت پیدا کر دی ہے کہ میں آج کل اپنے آپ کو کئی سال پہلے سے بہت زیادہ مضبوط جوان محسوس کر رہا ہوں۔بیماریاں وہی ہیں جو پہلے تھیں مگر میرے ارادہ اور میری ہمت اور میرے عزم میں اتنا عظیم الشان تغیر پیدا ہو گیا ہے کہ میں اسے الہی فیضان سمجھتا ہوں۔" الفضل ۶ - اگست ۱۹۳۵ء صفحه ۶) حضرت مصلح موعود کا یہ بیان اس وقت کا ہے جب آپ کی عمر چالیس سال سے متجاوز ہو چکی تھی۔عام قانون قدرت کے مطابق چالیس سال کے بعد انسانی قومی میں نقاہت و اضمحلال کا عمل شروع ہو جاتا ہے مگر اس بیان میں تو یہ خارق عادت اور غیر معمولی امر نظر آتا ہے کہ ایسے حالات میں جبکہ عام انسان بو کھلا کر ادھر ادھر بے مقصد ہاتھ پاؤں چلانے لگتا ہے اور بسا اوقات اس سے