سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 438
۴۳۸۔اپنے آپ کو گرانے کیلئے کہوں تو وہ پہاڑوں کی چوٹیوں سے اپنے آپ کو گرادیں میں انہیں جلتے ہوئے تنوروں میں کود جانے کا حکم دوں تو وہ جلتے تنوروں میں کود کر دکھا دیں۔اگر خوش کشی حرام نہ ہوتی اگر خود کشی اسلام میں ناجائز نہ ہوتی تو میں اس وقت تمہیں یہ نمونہ دکھا سکتا تھا کہ جماعت کے سو آدمیوں کو میں اپنے پیٹ میں خنجر مار کر ہلاک ہو جانے کا حکم دیتا اور وہ سو آدمی اس وقت اپنے پیٹ میں خنجر مار کر مرجاتا۔خدا نے ہمیں اسلام کی تائید کے لئے کھڑا کیا ہے ، خدا نے ہمیں محمد رسول اللہ کا نام بلند کرنے کے لئے کھڑا کیا ہے، دنیا مایوس ہو چکی تھی اسلام کی ترقی سے دنیا کہہ رہی تھی کہ اسلام اب دنیا پر غالب نہیں آسکتا تب خدا تعالیٰ نے میرے ہاتھ سے ان اناڑی لوگوں کو دنیا میں بھجوایا اور انہوں نے ہزاروں ہزار افراد کو اسلام کا حلقہ بگوش بنا دیا۔جہاں آج خدائے واحد کا نام بھی نہیں لیا جاتا وہاں تھوڑے دنوں تک ہی تم دیکھو گے کہ ان علاقوں کے کونے کونے سے یہ آواز اٹھتی سنائی دے گی کہ اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لا شَريكَ لَهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ قوموں نے ہماری مخالفت کی ملکوں نے ہماری مخالفت کی مگر خدا نے ہمارا ساتھ دیا اور جس کے ساتھ خدا ہوا سے نہ حکومتیں نقصان پہنچا سکتی ہیں نہ سلطنتیں نقصان پہنچا سکتی ہیں نہ بادشاہتیں نقصان پہنچا سکتی ہیں۔پس اے اہل لاہور میں تم کو خدا کا پیغام پہنچا تا ہوں۔میں تمہیں اس ازلی ابدی خدا کی طرف بلاتا ہوں جس نے تم سب کو پیدا کیا تم مت سمجھو کہ اس وقت میں بول رہا ہوں۔اس وقت میں نہیں بول رہا بلکہ خدا میری زبان سے بول رہا ہے۔میرے سامنے دین اسلام کے خلاف جو شخص بھی اپنی آواز بلند کرے گا اس کی آواز کو دبا دیا جائے گا۔۔۔۔۔خدا بڑی عزت کے ساتھ میرے ذریعہ اسلام کی ترقی اور اس کی تائید کے لئے ایک عظیم الشان بنیاد قائم کر دے گا۔میں ایک انسان ہوں میں آج بھی مر سکتا ہوں اور کل بھی مرسکتا ہوں لیکن یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ میں اس مقصد میں ناکام رہوں جس کے لئے خدا نے مجھے کھڑا کیا ہے۔میں ابھی سترہ اٹھارہ سال کا ہی تھا کہ خدا نے مجھے خبر دی کہ إِنَّ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ اے محمود میں اپنی ذات کی ہی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یقیناً جو تیرے متبع ہوں گے وہ قیامت تک تیرے