سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 437
۳م ایک غریب جماعت میں اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے وہ ایمان پیدا کر دیا جس کی مثال آج روئے زمین پر اور کوئی جماعت پیش نہیں کر سکتی۔ایک خطبہ جمعہ میں میں نے جماعت کے سامنے اعلان کیا کہ اسلام اس وقت تم سے خاص قربانی کا مطالبہ کر رہا ہے تم اگر خدا کی رضا حاصل کرنا چاہتے ہو تو اپنی تمام جائدادیں اسلام کی خدمت کے لئے وقف کر دو تاکہ جب بھی اسلام پر کفر کا حملہ ہو ہمیں اس کے مقابلہ کے لئے یہ پریشانی نہ ہو کہ ہم روپیہ کہاں سے لا ئیں بلکہ ہر وقت ہمارے پاس جائدادیں موجود ہوں جن کو فروخت کر کے یا گرو رکھ کر ہم اسلام کی تبلیغ آسانی سے کر سکیں ہماری جماعت ایک چھوٹی سی جماعت ہے ہماری جماعت ایک غریب جماعت ہے مگر جمعہ کے دن دو بجے میں نے یہ اعلان کیا اور ابھی رات کے دس نہیں بجے تھے کہ چالیس لاکھ روپیہ سے زیادہ کی جائیدادیں انہوں نے میری آواز پر خدمت اسلام کیلئے وقف کر دیں جن میں پانچ سو مربع سے زیادہ زمین ہے اور ایک سو سے زیادہ مکان ہیں اور لاکھوں روپیہ کے وعدے ہیں۔” یہ وہ اللہ تعالیٰ کی تائید اور اس کی نصرت کے نشانات ہیں جو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔میں نے اس سے پہلے جس قدر مبلغ دنیا میں بھجوائے وہ قریباً سب کے سب اناڑی تھے کوئی کالج میں سے نکلا تو میں نے اس سے کہا کہ خدا کے لئے آج مبلغوں کی ضرورت ہے تم اس خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کر سکتے ہو اور میرے کہنے پر وہ تبلیغ کیلئے نکل کھڑا ہوا۔یہی مولوی ظہور حسین صاحب جنہوں نے ابھی روس کے حالات بیان کئے ہیں جب انہوں نے مولوی فاضل پاس کیا تو اس وقت لڑکے ہی تھے میں نے ان سے کہا کیا تم روس جاؤ گے انہوں نے کہا میں جانے کے لئے تیار ہوں میں نے کہا جاؤ گے تو پاسپورٹ نہیں ملے گا کہنے لگے بے شک نہ ملے میں بغیر پاسپورٹ کے ہی اس ملک میں تبلیغ کے لئے جاؤں گا۔آخر وہ گئے اور دو سال جیل میں رہ کر انہوں نے بتا دیا کہ خدا نے کیسے کام کرنے والے وجود مجھے دیئے ہیں۔خدا نے مجھے وہ تلوار میں بخشی ہیں جو کفر کو ایک لحظہ میں کاٹ کر رکھ دیتی ہیں ، خدا نے مجھے وہ دل بخشے ہیں جو میری آواز پر ہر قربانی کرنے کیلئے تیار ہیں میں انہیں سمندر کی گہرائیوں میں چھلانگ لگانے کیلئے کہوں تو وہ سمندر میں چھلانگ لگانے کے لئے تیار ہیں میں انہیں پہاڑوں کی چوٹیوں سے