سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 433 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 433

۴۳۳ ہر قسم کے گناہوں سے بچائے۔" (رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء) سورة آل عمران کی آیت نمبر ٢٠١ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا کی تشریح میں قومی ترقی کے بعض نہایت ضروری اور بنیادی امور بیان کرتے ہوئے فرمایا :۔"۔اس آیت میں قرآن کریم نے دائمی ترقی حاصل کرنے کا ایک بے نظیر گر بتایا ہے۔فرمایا ہے کہ جو شخص اصبر و ا پر عمل کرے گا شیطان اس کے نفس کے لئے مر جائے گا مگر اس کے ہمسایہ کے لئے رہ جائے گا۔پھر جو شخص صَابِرُوا پر عمل کرے گا وہ اپنے ہمسایہ کو بھی شیطان کے حملہ سے بچائے گا۔اس کے بعد دشمن نکل تو جائے گامگروہ کہیں دور نہیں جائے گا بلکہ باہر چھپ کر بیٹھ رہے گا اور اس کی اولاد پر حملہ کرنے کی تاک میں رہے گا اور اس بات کا انتظار کرتا رہے گا کہ کب یہ قوم غافل ہو اور میں اس پر حملہ کردوں اس لئے فرمایا کہ اس کے بعد تمہارے لئے ضروری ہے کہ رابطوا کے حکم کو مد نظر رکھو۔اگر تم ہمیشہ مرابطہ کرتے رہو اور ہمیشہ اپنی سرحدات کی حفاظت کرتے رہو تو دشمن کبھی تم پر حملہ آور نہیں ہو سکتا اور تم ہمیشہ کیلئے اس کے فتنہ سے محفوظ ہو جاؤ گے۔پس اس آیت میں خدا تعالیٰ نے مستقل اور دائمی ترقی کا راز بتایا ہے مگر افسوس کہ قومیں اور حکومتیں اِصْبِرُوا پر عمل کر لیتی ہیں وہ صَابِرُوا پر عمل کر لیتی ہیں مگر رَابِطُوا پر عمل نہیں کرتیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پھر روحانیت دنیا سے مٹ جاتی ہے ، پھر کفر کا غلبہ ہو جاتا ہے، پھر گناہ دنیا میں پھیل جاتا ہے ، پھر صداقت نا پید ہو جاتی ہے اور پھر خدا دنیا کی اصلاح کے لئے ایک نیا نبی مبعوث کرتا ہے۔اس پر پھر ا صبر و ا کی جنگ لڑی جاتی ہے ، پھر صَابِرُوا کی جنگ لڑی جاتی ہے، پھر را بطوا کی جنگ لڑی جاتی ہے ، مگر پھر کچھ عرصہ کے بعد لوگ یہ خیال کرنے لگ جاتے ہیں کہ اب تو دشمن مرگیا آؤ ہم اپنی سرحد کے سپاہیوں کو واپس بلا لیں۔وہ ان سپاہیوں کو واپس بلاتے ہیں اور ان کے ساتھ ہی چوروں کی طرح دشمن فاتح قوم کے اندر داخل ہو جاتا ہے جس کے نتیجہ میں پھر اس قوم کا تختہ الٹ جاتا ہے ، پھر اس کی ترقی مٹ جاتی ہے ، پھر اس کی عزت ذلت سے اور اس کی نیک شہرت بدنامی سے بدل جاتی ہے۔پس را بِطُوا کا معاملہ سخت نازک ہوتا