سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 409 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 409

۴۰۹ جنگیں کیں اور اپنی جانیں قربان کیں۔ہم ان کی بے حد عزت کرتے اور توقیر کرتے ہیں لیکن کوئی وجہ نہیں کہ ان کی قربانیوں پر رشک نہ کریں اور ان سے بڑھنے کی کوشش نہ (رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء) کریں" مسئلہ خلافت کے متعلق حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے خلافت لمبے عرصہ تک چلے گی ایک مقالہ اسلامی خلافت کا صحیح نظریہ " پر بصیرت افروز تبصرہ کرتے ہوئے حضور بڑے یقین کے ساتھ خلافت کے لمبے عرصہ تک چلنے کی خوش خبری دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔پس جہاں میرے نزدیک یہ بحث نہ صرف یہ کہ بیکار ہے بلکہ خطرناک ہے کہ ہم خلافت کے عرصہ کے متعلق بحثیں شروع کر دیں وہاں یہ امر ظاہر ہے کہ سلسلہ احمدیہ میں خلافت ایک بہت لمبے عرصہ تک چلے گی جس کا قیاس بھی اس وقت نہیں کیا جا سکتا اور اگر خدانخواستہ بیچ میں کوئی وقفہ پڑے بھی تو وہ حقیقی وقفہ نہیں ہو گا بلکہ ایسا ہی وقفہ ہو گا جیسے دریا بعض دفعہ زمین کے نیچے گھس جاتے ہیں اور پھر باہر نکل آتے ہیں کیونکہ جو کچھ اسلام کے قرونِ اولیٰ میں ہو ا وہ ان حالات سے مخصوص تھا وہ ہر زمانہ کے لئے الفضل ۳ اپریل ۱۹۵۲ء) نہیں تھا۔" فتنہ کافور اعلاج کریں فرماتے ہیں۔وو آئندہ زمانہ میں ہونے والے فتنوں سے ہوشیار کرتے ہوئے اور ان سے بچنے کے لئے مرکز میں بار بار آنے کی تاکید کرتے ہوئے آپ یہ وہ فتنہ تھا جس نے مسلمانوں کے بہتر فرقے نہیں بلکہ بہتر ہزار فرقے بنا دیئے مگر اس کی وجہ یہی ہے جو میں نے کئی دفعہ بتائی ہے کہ وہ لوگ مدینہ میں نہ آتے تھے۔ان باتوں کو خوب ذہن نشین کر لو کیونکہ تمہاری جماعت میں بھی ایسے فتنے ہوں گے جن کا علاج یہی ہے کہ تم بار بار قادیان آؤ اور صحیح صحیح حالات سے واقفیت پیدا کرو۔میں نہیں جانتا کہ یہ فتنے کسی زمانہ میں ہوں گے لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ ہوں گے ضرور لیکن اگر تم قادیان آؤ گے اور بار بار آؤ گے تو ان فتنوں کے دور کرنے میں کامیاب ہو جاؤ گے پس تم اس بات کو خوب یا درکھو اور اپنی نسلوں در نسلوں کو یاد کراؤ۔۔۔۔۔صحابہ کی درد ناک تاریخ سے فائدہ اٹھاؤ اور وہ باتیں جو ان کے لئے مشکلات کا باعث ہو تیں ان