سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 402 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 402

1 ۲۰۲ جائیں گے لیکن افسوس ہے کہ اس طرف کوئی توجہ نہیں کی گئی۔" کہا جاتا ہے کہ خرچ نہیں۔کیا صحابہ کے پاس خرچ ہوا کر تا تھا؟ کیا موت کے منہ آئی ہوئی قومیں بحثوں کو دیکھا کرتی ہیں ؟ کیا عظیم الشان ارادوں والے لوگ اپنی کو تاہ دامنیوں کا کبھی خیال کیا کرتے ہیں؟ اپنی مستیوں کو چھوڑو غفلتوں کو ترک کرو اپنی ، تنگ دامنیوں کو بھول جاؤ۔خدا نے انسان کے دل کو بڑی وسعت دی ہے تم اس وسعت کو دیکھو جو خدا نے تمہارے دل میں پیدا کی ہے ، تم اس کام کو دیکھو جو خدا نے تمہارے سامنے رکھا ہے، تم بنی نوع انسان کی ان تکلیفوں کو دیکھو جو کہ روحانی طور پر ان کو پہنچ رہی ہیں، تم مظلوموں کی ان آوازوں کو سنو جو خدا کا رستہ دکھانے کے لئے کرب اور اضطراب کے ساتھ بلند کی جارہی ہیں اور تم اس بات کو دیکھو کہ تمہارے ان کاموں کو کرنے والا کوئی نہیں اور خدا کے ان وعدوں کو دیکھو جو تمہارے لئے کئے گئے ہیں اور اپنے اندر ایک عظیم الشان تغیر پیدا کرد ، جلد سے جلد علماء پیدا کرو۔جلد سے جلد تبلیغ کا کام اپنے ہاتھ میں لو جلد سے جلد لٹر پچر پیدا کرنے اور اس کو شائع کرنے کی کوشش کرو اور تم میں سے ہر شخص اپنے عمل میں تبدیلی پیدا کرے۔اپنے دل میں محبت الہی پیدا کرے اور اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ خد اتعالیٰ اس کی مدد کرے۔"کاش ! خدا تعالیٰ تمہارے دلوں میں ان باتوں کی عظمت اور اہمیت ڈال دے اور کاش! اس جلسہ پر تم ایک نئے وجود بن کر جاؤ۔ملک کو روحانی دعوت دینے والے ملک کو روحانی ترقی بخشنے والے اور پھر ساری دنیا کے لئے مفید وجود ثابت ہونے والے بن کر جاؤ۔خدا کے وعدوں کو ساتھ لے کر جاؤ اور خدا کی مدد کو ساتھ لے کر جاؤ۔اللهم آمین۔" الفضل ۱۶۔جنوری ۱۹۵۳ء صفحہ ۳۴۲) ۱۹۵۳ء کے جلسہ سالانہ کے لئے حضور نے بذریعہ تار مندرجہ ذیل پیغام ارسال فرمایا جس کا ترجمہ پاکستانی قافلہ کے امیر مکرم چوہدری اسد اللہ خان صاحب نے پڑھ کر سنایا۔”حضرت مصلح موعود نے تمام حاضرین جلسہ کو سلام کہا ہے اور اس میں کوئی تخصیص نہیں فرمائی بلکہ اس وقت جلسہ کے اندر جو لوگ موجود ہیں چاہے وہ مسلمان ہوں یا ہندو ہوں یا سکھ ہوں یا عیسائی ہوں سب کو سلامتی کا پیغام دیا ہے اور فرمایا ہے کہ