سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 388
۳۸۸ لیکن قادیان پہلے سے بھی زیادہ دنیا کی توجہ کا مرکز ہو گیا ہے اور اس کی وجہ وہی قربانی اور شاندار نمونہ ہے جو قادیان کے احمدیوں نے پیش کیا اور آپ لوگ اس قربانی کی مثال کو زندہ رکھنے والے ہیں اور اس وجہ سے اس معاملہ میں سب سے زیادہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔لیکن صرف کسی چیز کو زندہ رکھنا کافی نہیں ہوا کرتا اس چیز کو زیادہ سے زیادہ پھیلانا اصل کام ہو تا ہے۔اگر محمد رسول اللہ میں لیا ہے اس نور آسمان کو اپنے دل میں زندہ رکھتے جو آسمان ہے اس وقت نازل ہوا تھا تو یہ بھی ایک بہت بڑا کام ہو تا لیکن اتنا بڑا کام نہیں جو اس صورت میں ہوا کہ آپ نے اس نور کو اپنے دل ہی میں زندہ نہیں رکھا بلکہ ہزاروں لاکھوں اور انسانوں کو بھی اس نور سے منور کر دیا۔صحابہ کرام نے اس نور کو اپنی زندگیوں میں زندہ رکھ کر ایک بہت بڑا نمونہ دکھایا لیکن ان کا یہ نمونہ اس سے بھی زیادہ شاندار تھا کہ انہوں نے نور محمدی کا ایک حصہ اپنے سینوں سے نکال کر لاکھوں اور کروڑوں دیگر انسانوں کے دلوں میں بھی بھر دیا۔پس اے میرے عزیزو! آپ کی زندگی کا پہلا دور ختم ہوتا ہے اور نیا دور شروع کرنے کا وقت آگیا ہے۔پہلے دور کی مثال ایسی تھی جیسے چٹان پر ایک لیمپ روشن کیا جاتا ہے تا کہ وہ قریب آنے والے جہازوں کو ہو شیار کرتا رہے اور تباہی سے بچائے۔لیکن نئے دور کی مثال اس سورج کی سی ہے جس کے گرد دنیا گھومتی ہے اور جو باری باری ساری دنیا کو روشن کر دیتا ہے۔بیشک آپ کی تعداد قادیان میں تین سو تیرہ ہے۔لیکن آپ اس بات کو نہیں بھولے ہوں گے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قادیان میں خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے کام کو شروع فرمایا تھا تو اس وقت قادیان میں احمدیوں کی تعداد صرف دو تین تھی۔تین سو آدمی یقینا تین سے زیادہ ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوئی کے وقت قادیان کی آبادی گیارہ سو تھی۔گیارہ سو اور تین کی نسبت ۱/۳۶۶ کی ہوتی ہے۔اگر اس وقت قادیان کی آبادی بارہ ہزار سمجھی جائے تو موجودہ احمد یہ آبادی کی نسبت باقی قادیان کے لوگوں سے ۱/۳۶ ہوتی ہے۔گویا جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کام شروع کیا اس سے آپ کی طاقت دس گنا زیادہ ہے۔پھر جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے کام شروع کیا اس وقت قادیان سے باہر کوئی احمد یہ جماعت نہیں تھی لیکن