سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 377
۳۷۷ محترم میر داؤد احمد صاحب (پرنسپل جامعہ احمدیہ۔ناظر خدمت درویشاں) کی خدا کاسپاہی درخواست پر حضور نے اپنے دست مبارک سے مندرجہ ذیل نصیحت تحریر فرمائی۔انسان کو چاہئے اپنے ہر کام میں اللہ تعالیٰ کو یا درکھے اور مسلمان کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ یاد رکھے کہ وہ خدا کا سپاہی ہے جس طرح دوسرے لوگ شیطان کے سپاہی ہیں۔اگر شیطان کے سپاہی اپنے مقاصد کے لئے دن رات ایک کر کے کوشش کر رہے ہیں۔تو خدا کے سپاہی کو ان سے زیادہ ہوشیار ان سے زیادہ سمجھدار ان سے زیادہ محنتی ہو نیکی کوشش کرنی چاہیئے۔" (الفضل یکم ستمبر۷ ۱۹۴ء) مکرم ملک خادم حسین صاحب (سابق ناظر امور عامہ ) نے بیعت کے بعد کوئی نصیحت فرمانے کی درخواست کی تو حضور نے اپنے قلم سے تحریر فرمایا۔تقویٰ اللہ کو اپنا شعار بنا ئیں۔اللہ تعالیٰ کی محبت دل میں پیدا کریں۔کہ اللہ تعالیٰ کی محبت سب دکھوں اور تکلیفوں اور جسمانی روحانی بیماریوں کا علاج ہے۔آپ فوج میں ملازم ہیں۔اور آپ نے وہاں اطاعت کا سبق سیکھا ہے۔اب مزید یہ سبق سیکھیں کہ خدا تعالی اور اسلام کی اطاعت سب اطاعتوں سے افضل ہے"۔الفضل ۴۔مارچ ۱۹۴۷ء) محترم میر صاحب کو حضور نے جو نصیحت فرمائی وہ ۱۹۳۹ء کی ہے اسی طرح مکرم ملک صاحبہ کو جو نصیحت فرمائی وہ بھی اسی سال کی ہے مگر اس جگہ ایک لطیف قابل غور بات یہ ہے کہ حضور نے ایک فوجی سپاہی کو اس کی تربیت اور مشق کے مطابق مزید ترقی اور قرب پانے کی نصیحت فرمائی جب کہ اسی قسم کی نصیحت کرتے ہوئے خدا کے سپاہی" کے الفاظ سے اس نصیحت کے مفہوم اور اثر میں ناقابل بیان اضافہ فرما دیا۔۱۹۳۸ء میں حضور حیدر آباد دکن تشریف لے گئے۔اسلامی عظمت کیلئے متحدہ کوشش یہ وہی مشہور سفر ہے جس سے واپسی کے بعد حضور نے سیر روحانی" کے عنوان سے اپنا معرکۃ الآراء سلسلہ تقاریر شروع فرمایا۔اس سفر میں آپ سے مسلمانان حیدر آباد کے نام کوئی پیغام دینے کی خواہش کی گئی جس پر آپ نے مسلمانوں کو باہمی اتحاد کانهایت ضروری پیغام دیتے ہوئے فرمایا۔