سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 332 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 332

۳۳۲ کی طرح تن من دھن کی بازی لگادی اور احمدی رضا کار عملاً جہاد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے بلکہ بعض بڑے بڑے علماء اور ان کی جماعتیں ابھی تک جہاد کشمیر کے جواز کو ہی محل نظر سمجھتے ہیں۔بلکہ بعض جماعتیں اور علماء تو اس حد تک چلے گئے کہ جہاد کشمیر کو ناجائز اور وہاں مرنے والوں کو حرام موت مرنے والے قرار دیا۔مذکورہ بالا تمام مراحل میں جماعت کی کامیابی و کامرانی اور اس کے نتیجہ میں خدائی تائید و نصرت دشمنوں کو سراسیمہ کرنے کے لئے کافی تھی۔چنانچہ وہ اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے اور کسی مذہبی مسئلہ کی آڑ میں سادہ لوح عوام کو بیوقوف بنا کر دنیوی مفاد حاصل کرنے کی فکر میں لگ گئے اور اس طرح مجلس احرار اور بعض اور مجالس و جماعتوں نے " تحفظ ختم نبوت " کے م پر ملک کو لا قانونیت اور انار کی کے اندھے غار میں دھکیلنے کا منصوبہ شروع کر دیا حالانکہ فسادات پنجاب کی تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ کے مطابق اسلام ان کے لئے ایک حربے کی حیثیت رکھتا تھا جسے وہ کسی سیاسی مخالف کو پریشان کرنے کے لئے جب چاہتے بالائے طاق رکھ دیتے اور جب چاہتے اٹھا لیتے۔" ( صفحه ۲۷۲) اس رپورٹ میں احرار کے رویہ کو بطور خاص مکروہ اور قابل نفرت قرار دیا گیا کیونکہ انہوں نے ایک دنیوی مقصد کے لئے ایک مذہبی مسئلے کو استعمال کر کے اس مسئلے کی توہین کی اور اپنے ذاتی اغراض کی تکمیل کے لئے عوام کے مذہبی جذبات و حسیات سے فائدہ اٹھایا۔اس بات پر صرف احرار ہی یقین کر سکتے ہیں کہ وہ اپنے اعمال میں مخلص تھے " (صفحہ ۲۷۷) حضرت امام جماعت احمد یہ جماعت کی ترقی و بہتری اور انسانیت کی خدمت کے ذہنی تیاری تعمیری اور ٹھوس کاموں میں مصروف ہونے کے ساتھ ساتھ دشمن کی تخریبی سرگرمیوں سے بھی پوری طرح آگاہ و باخبر تھے۔آپ نے جماعت کو آنے والے ابتلاؤں کے لئے تیار کرتے ہوئے اور دعاؤں کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا۔اس قسم کے نازک مواقع پر میں جماعت کو اتنے حصہ میں شریک کر تا رہا ہوں کہ میں انہیں دعا کی طرف تحریک کیا کرتا ہوں اور مخلصین نے ہمیشہ میری اس تحریک کو قبول کیا ہے اور انہوں نے اس طرح دعائیں کی ہیں کہ خدا تعالیٰ نے مصیبت کو ٹلا دیا