سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 331 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 331

۳۳۱ جماعت احمدیہ کی مخالفت کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی فسادات پنجاب کا پس منظر جماعت کی تاریخ بلکہ زیادہ صحیح تو یہ ہو گا کہ جمات احمدیہ کی مخالفت کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی کسی بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والی سچائی کی مخالفت کی تاریخ۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی زندگی میں آپ کے دعوئی کے ساتھ ہی بڑے بڑے علماء اور اکابر مشائخ نے مخالفت شروع کر دی اور ہر وہ حربہ استعمال کیا جس سے ان کے نزدیک اس نرم و نازک کو نپل کو ختم کیا جا سکے مگر خدائی حفاظت میں جماعت بڑھتی چلی گئی اور اس طرح دشمنوں کی ناکامی انہیں پہلے سے زیادہ مخالفت کے لئے انگیخت کرتی اور پھر کوئی اور فتنہ کھڑا کر دیا جاتا۔خلافت ثانیہ میں بھی مخالفت کا سلسلہ برابر جاری رہا بلکہ جماعت کی غیر معمولی ترقی نے مخالفت کرنے والوں کی ضد تعصب اور عناد و دشمنی میں اور اضافہ کر دیا۔۱۹۳۴ء میں مجلس احرار کی مخالفت اور اس کی ناکامی کا ذکر پچھلے صفحات میں بیان ہو چکا ہے۔بر صغیر تقسیم ہوا اس وقت آگ اور خون کی جو ہولناک ہولی کھیلی گئی اور ننگ انسانیت شرمناک واقعات پیش آئے ان میں خدمت انسانیت کے تناظر میں جماعت کی کارکردگی نہایت نمایاں طور پر قابل رشک ثابت ہوئی۔ہزاروں لٹے پٹے خاندانوں نے ہندوؤں اور سکھوں کے جو رو ستم سے بچنے کے لئے قادیان میں پناہ لی۔حضرت امام جماعت احمدیہ نے ان ستم گزیدگان سے ایسا عمدہ سلوک کیا جس کی مثال اسوہ رسول میں اللہ کے سوا اور کہیں نہیں مل سکتی۔تمام پناہ گزینوں کو جن کی بھاری تعداد غیر از جماعت افراد پر مشتمل تھی ہر ممکن سہولت بہم پہنچائی گئی۔اس زمانے کے پریس کو بھی اس کا اعتراف کرنا پڑا کہ قادیان دالوں نے بہت اچھا نمونہ دکھایا ہے۔جدوجہد آزادی میں مذہبی جماعتوں نے بالعموم پاکستان کی مخالفت کی جبکہ جماعت احمدیہ یہاں بھی اپنے تمام ذرائع اور اثر و رسوخ کے ساتھ پاکستان کی حمایت کی جنگ لڑ رہی تھی۔استحکام پاکستان اور کشمیر کی آزادی کے لئے حضرت امام جماعت احمدیہ کو قابل رشک خدمات کی توفیق حاصل ہوئی۔پاکستان کے مخالف قیام پاکستان پر منقار زیر پر ہی تھے کہ مہاجرین کی آباد کاری اور کشمیر کے جہاد کے دو نہایت اہم مسائل سامنے آگئے۔مہاجرین کی آباد کاری کے سلسلہ میں جماعت نے حکومت کی ہر ممکن مدد کی اور احمدیوں کے امام اور ان کی تنظیم کی وجہ سے آباد کاری کا مسئلہ (جماعت کی حد تک) خوش اسلوبی سے طے پاگیا۔جہاد کشمیر میں جماعت نے ہمیشہ