سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 25
۲۵ ۱۳۔مسٹر محمد زہدی صاحب (ملایا )۔جماعتہائے احمد یہ سنگا پور ملایا ۱۴۔جناب مولوی احمد سروی صاحب ( سماٹری ) جماعتہائے جزائر شرق الہند (الفضل ۳۔جنوری ۱۹۴۰ء ) اس کے علاوہ بیرونی جماعتوں کی طرف سے ایک بڑی تعداد میں تاروں کے ذریعہ مبارکباد پیش کی گئی۔قادیان کی ہندو آبادی نے بھی اپنے رنگ میں اظہار عقیدت کیا اور جماعت کی خوشی میں شامل ہوئے۔خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت کا یہ عجیب نشان بھی اس جلسہ میں نظر آیا کہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جلسہ کے ایام میں اپنی انتظامی مصروفیات اور احباب جماعت سے ملاقات کے علاوہ بارہ تقاریر ارشاد فرمائیں جن میں سے ایک تقریر مسلسل چار گھنٹے اور دوسری تقریر مسلسل ساڑھے تین گھنٹے اور ایک تین گھنٹہ کی تھی۔غیر معمولی اہمیت کے اس تاریخی جلسہ کی افتتاحی تقریر کیلئے حضور انور حاضرین کے نعرہ ہائے تکبیر اور دوسرے قومی نعروں کی گونج میں تشریف لائے۔تشہد اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔” میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت کر رہا تھا اور ابھی پہلی ہی آیت میں نے پڑھی تھی کہ میری نگاہ سامنے تعلیم الاسلام ہائی سکول پر پڑی اور مجھے وہ نظارہ یاد آگیا جو آج سے ۲۵ سال پہلے اس وقت رونما ہوا تھا جب جماعت میں اختلاف پیدا ہوا تھا اور عمائد کہلانے والے احمدی جن کے ہاتھوں میں سلسلہ کا نظم و نسق تھا انہوں نے اپنے تعلقات ہم سے قطع کر لئے اور گویا اس طرح خفگی کا اظہار کیا کہ اگر تم ہمارے منشاء کے ماتحت نہیں چلتے تو لو کام کو خود سنبھال لو ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس وقت ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے جو اب فوت ہو چکے ہیں اس مدرسہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم جاتے ہیں اور تم دیکھ لو گے کہ اس جگہ پر دس سال کے اندر اندر احمدیت نابود ہو کر عیسائیوں کا قبضہ ہو جائے گا۔اس کے بعد وہ دس سال گزرے۔پھر ان کے اوپر دس سال اور گزر گئے۔پھر ان پر چھ سال اور گزر گئے۔لیکن اگر اس وقت چند سو آدمی احمدیت کا نام لینے والے یہاں جمع ہوتے تھے تو آج یہاں ہزاروں جمع ہیں اور ان سے بھی زیادہ جمع ہیں جو اس وقت ہمارے رجسٹروں میں لکھے ہوئے تھے اور اس لئے جمع ہیں