سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 292 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 292

۲۹۲ جن کی مملکت پاکستان کے استحکام کیلئے ضرورت تھی۔حضور کی ان تقاریر پر اب کم و بیش نصف صدی گزر چکی ہے تاہم ان کی اہمیت و افادیت آج بھی جب کہ انگریزی محاورے کے مطابق بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے نکل چکا ہے اور بعض نادان دوستوں کی ” مہربانی " سے پاکستان کا جغرافیہ تبدیل اور نقشہ سکڑ کر آدھا ہو چکا ہے ہر صاحب عقل و دانش اس بات سے اتفاق کرے گا کہ اگر ان باتوں پر اس طرح درد اور خلوص سے عمل کیا جاتا جس طرح وہ پیش کی گئیں تھیں تو یقینا آج پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں ایک قابل احترام مقام پر ہو تا۔حضور کے ابتدائی پانچ خطاب مینارڈ کالج ہال میں اور آخری پنجاب یونیورسٹی ہال میں ہوا۔ان جلسوں کی صدارت مندرجہ ذیل اہم شخصیات نے کی۔جسٹس محمد منیر صاحب (بعد میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہوئے) ملک فیروز خان نون (بعد میں وزیر اعظم پاکستان) ۳۔ملک عمر حیات صاحب پر نسپل اسلامیہ کالج لاہو روائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی -۴ میاں فضل حسین مشہور مسلم رہنما ۵- جناب سر عبد القادر صاحب مشہور مسلم مؤرخ و دانشور حضور کی پہلی دو تقاریر کا خلاصہ حضور کے اپنے الفاظ میں درج ذیل ہے۔ملک کی حفاظت اور اس کی ترقی کے لئے سوختنی اور تعمیری لکڑی کا وجود نهایت ضروری ہے۔سوختنی لکڑی کو گلے کا بھی کام دے سکتی ہے۔پرانے زمانہ کے تمام بڑے شہروں کے اردگرد سوختنی لکڑی کے رکھ بنائے جاتے تھے جہاں سے شہروں کو لکڑی مہیا کی جاتی تھی اور قصبات میں زمینداروں کے ذمہ لگایا جاتا تھا کہ وہ درخت لگائیں اور انہیں چھوٹے درخت کاٹنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی تاکہ لکڑی ضائع نہ ہو۔ہر گاؤں میں اتنے درخت ہوئے جاتے تھے کہ اس گاؤں کی سوختنی اور تعمیری ضرورتیں ان سے پوری ہو سکتی تھیں۔انگریز چونکہ ایک صنعتی ملک کے رہنے والے ہیں ان کی حکومت کے زمانہ میں دیہات کی اقتصادی اور تمدنی حالت کی طرف توجہ کم ہو گئی اور شہروں کی طرف توجہ بڑھ گئی اس لئے پر انا نظام قائم نہ رہ سکا اور درخت کٹتے کٹتے گاؤں ننگے ہوئے اور مسلمان بھی ہندوؤں کی نقل میں جانور کا گو بر چولہوں میں جلانے لگے حالانکہ گوبر کا جلانا صفائی کے لحاظ سے بھی اور زراعتی لحاظ سے بھی نہایت مضر ہے۔بائیبل میں