سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 287
۲۸۷ کیا جائے۔" دو سرے میں نے مناسب سمجھا کہ کانگریس پر بھی اس حقیقت کو واضح کر دیا جائے کہ وہ اس غلطی میں مبتلا نہ رہے کہ مسلمانوں کو پھاڑ پھاڑ کر وہ ہندوستان پر حکومت کر سکے گی۔اس طرح نیشنلسٹ خیالات رکھنے والوں پر یہ واضح کر دیا جائے کہ وہ کانگریس کے ایسے حصوں کو سنبھال کر رکھیں اور ان کے جوشوں کو دبا ئیں۔جن کا یہ خیال ہو کہ وہ مسلمانوں کو دبا کر یا ان کو آپس میں پھاڑ پھاڑ کر حکومت کر سکتے ہیں۔یہ سوچ کر میں نے ایک تار نواب صاحب چھتاری کو دیا وہ بھی لیگ میں شامل نہیں لیکن مسلمانوں میں بہت اثر ورسوخ رکھنے والے آدمی ہیں۔یو۔پی کے گورنر رہ چکے ہیں اور اب حکومت آصفیہ کے وزیر اعظم کے عہدہ سے واپس آئے ہیں۔اس تار کا جواب آنے پر میں نے انہیں لکھا کہ میرا اب ایسا ارادہ ہے کیا آپ اس میں شریک ہو سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔" دو سرا فائدہ اس کا یہ بھی ہو گا کہ دہلی میں ہمیں تازہ بتازہ خبریں ملتی رہیں گی اور اگر حالات بگڑتے ہوئے معلوم ہوئے تو ہم فور ادعا کر سکیں گے۔قادیان میں تو ممکن ہے کہ ہمیں ایسے وقت میں خبر ملے جب واقعات گزر چکے ہوں اور دعا کرنے کا کوئی فائدہ نہ ہو۔نیز مجھے یہ بھی خیال آیا کہ بعض اور بار سوخ لوگوں کو بھی اس تحریک میں شامل کرنا چاہئے۔جیسے سر آغا خان ہیں۔گو سر آغا خان ہندوستان میں نہیں تھے۔مگر میں نے سمجھا کہ چونکہ ان کی جماعت بھی مسلمان کہلاتی ہے اگر ان کو بھی شریک ہونے کا موقع مل جائے تو گورنمنٹ پر یہ امر واضح ہو جائے گا کہ مسلمانوں کی ایک اور جماعت بھی ایسی ہے جو اس بارے میں مسلم لیگ کے ساتھ ہمدردی رکھتی ہے۔چنانچہ لندن مشنری کی معرفت میں نے سر آغا خان کو بھی تار بھجوا دیا اس دوران میں نے قادیان سے بعض نمائندے اس غرض کے لئے بھجوائے کہ وہ نواب صاحب چھتاری سے تفصیلی گفتگو کریں اور انہیں ہدایت کی کہ وہ لیگ کے نمائندوں سے بھی ملیں اور ان پر یہ امر واضح کر دیں کہ ہم یہ نہیں چاہتے کہ لیگ کے مقاصد کے خلاف کوئی کام کریں اگر یہ تحریک لیگ کے مخالف ہو تو ہمیں بتا دیا جائے ہم اس کو چھوڑنے کیلئے تیار ہیں اور اگر مخالف نہ ہو تو ہم شروع کر دیں۔اس پر لیگ کے بعض نمائندوں نے تسلیم کیا کہ یہ