سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 283 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 283

۲۸۳ میں درگاہ رب العزت میں فریادی اور ملتجی ہوا۔الہی میں تن تنہا عاجز اور بے کس اور ذمہ داری اس قدر بھاری۔اس امانت کی کما حقہ ادائیگی کی کیا صورت ہوگی میں تو بالکل خالی اور صفر ہوں۔لیکن تجھے ہر قدرت ہے تو اپنے فضل و کرم سے مجھے فہم اور توفیق عطا فرما اور خود میرا ہادی و ناصر ہو۔" اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمام ضروری امور خاطر خواہ طریق پر میسر ہوتے چلے گئے اور حضرت چوہدری صاحب نے یہ قومی ذمہ داری اس طریق پر ادا فرمائی کہ پاکستانی پریس اور قائد اعظم نے ہی نہیں فریق مخالف نے بھی آپ کی وکالت کی تعریف کی۔باؤنڈری کمیشن کے سراسر غیر منصفانہ بلکہ ظالمانہ طرز عمل اس سلسلہ میں سازشیں اور بہت سے گفتنی و نا گفتنی امور کی وجہ سے فیصلہ تو مسلم لیگ کی خواہش کے مطابق نہ ہو سکا تاہم اس موڈ پر حضرت مصلح موعود کا طرز عمل ہمیشہ کی طرح یہی تھا کہ آپ نے اپنے تمام ذرائع اور صلاحیتوں کو مکمل طور پر اس اہم قومی خدمت کیلئے وقف کر دیا۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اس زمانے کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔حضرت خلیفہ ثانی ان دنوں لاہو رہی میں تشریف فرما تھے۔بدھ کی سہ پہر کو جنار مولانا عبد الرحیم درد صاحب خاکسار کے پاس تشریف لائے اور فرمایا حضرت صاحب نے مجھے بھیجا ہے کہ تم سے دریافت کروں کہ حضرت صاحب کس وقت تشریف لا کر تمہیں تقسیم کے بعض پہلوؤں کے متعلق معلومات بہم پہنچا دیں۔خاکسار نے گزارش کی خاکسار جس وقت ارشاد ہو حضور کی خدمت میں حاضر ہو جائے گا۔جناب در د صاحب نے فرمایا حضور کا ارشاد ہے تم نہایت اہم فرض کی سرانجام دہی میں مصروف ہو۔تمہارا وقت بہت قیمتی ہے تم اپنے کام میں لگے رہو ہم وہیں آجائیں گے۔یہی مناسب ہے چنانچہ حضور تشریف لائے اور بٹوارے کے اصولوں کے متعلق بعض نہایت مفید حوالوں کی نقول خاکسار کو عطا کیں اور فرمایا اصل کتب منگوانے کے لئے انگلستان فرمائش بھیجی ہوئی ہے اگر بروقت پہنچ گئیں تو وہ بھی تمہیں بھیجی جائیں گی نیزار شاد فرمایا ہم نے اپنے خرچ پر حد بندی کے ایک ماہر پروفیسر کی خدمات انگلستان سے حاصل کی ہیں وہ لاہور پہنچ چکے ہیں اور نقشہ جات وغیرہ تیار کرنے میں مصروف ہیں۔متعلقہ کتب انگلستان سے قادیان پہنچیں اور وہاں سے ایک موٹر سائیکل سوار Side-Car