سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 282
۲۸۲ حکومت کے زیر غور ہے۔ان امور کا علم ہونے پر حضرت فضل عمر نے بغیر کسی تاخیر کے فوری طور پر وائسرائے ہند کے نام ایکسپریس تار کے ذریعہ پر زور احتجاج کیا اس کے علاوہ ایک احتجاجی تار اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم مسٹرائیلی اور قائد حزب اختلاف مسٹر چرچل کو بھجوائی اسی طرح پنجاب کی تقسیم کے خلاف اپنے جذبات اور بعض ضروری مشورے بذریعہ تار قائد اعظم تک بھی پہنچائے گئے۔آپ نے ان احتجاجی تاروں پر ہی اکتفا نہ کیا بلکہ " قیام امن و صلح" کے نام سے ایک خصوصی سیل قائم فرمایا جس نے پنجاب کے ہر گاؤں کے متعلق ضروری معلومات اور اعداد و شمار جمع کرنے شروع کر دیئے۔حضرت فضل عمر نے اس سلسلہ میں ترکی اور عراق کے درمیان حد بندی کا لٹریچر اسی طرح امریکہ سے بین الاقوامی حد بندی کا لٹریچر منگوایا۔اس مقصد کیلئے امام مسجد لندن نے وہاں کے پریس اور اہل علم حضرات سے معلومات حاصل کر کے بمشکل تمام ایسی نادر معلومات جمع کر کے بہ صرف زر کثیر قادیان بھجوائیں۔اس طرح ایک ماہر جغرافیہ دان MT OH K Spate کی خدمات حاصل کر کے کیس کی تیاری اپنے طور پر شروع کر دی۔قائد اعظم نے باؤنڈری کمیشن کے سامنے کیس پیش کرنے کیلئے اپنے قابل اعتماد ساتھی حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کو منتخب کیا۔قائد اعظم کے پوچھنے پر چوہدری صاحب نے انہیں اپنی مصروفیات بتائیں تو قائد اعظم نے فرمایا کہ آپ کو کافی وقت میسر ہو گا۔لاہور کے وکلاء کیس تیار کیا ہوا ہوگا آپ کو دلائل کی ترتیب اور اسلوب بحث ہی طے کرنا ہو گا۔چوہدری صاحب کے یہ کہنے پر کہ میں لندن سے واپسی پر کراچی سے سید ھالا ہو ر چلا جاؤں گاوہاں میں کس کو اطلاع دوں۔جناب قائد اعظم نے جواباً فرمایا نواب ممدوٹ سب انتظام کریں گے۔جب محترم چوہدری صاحب اس پروگرام کے مطابق لاہور پہنچے تو لاہور سٹیشن پر آپ کا پر تپاک خیر مقدم کیا گیا۔نواب ممدوٹ صاحب نے چوہدری صاحب کو اپنے ہاں ٹھہرنے کی دعوت بھی دی۔جس سے بوجوہ استفادہ نہ کیا جا سکا مگر اصل کام یعنی کیسی کی تیاری بلکہ اس مقصد کیلئے وکلاء کا تقرر تک بھی نہیں کیا گیا تھا۔دفتری سامان کی طرف توجہ دلانے پر اس کے انتظام کا وعدہ تو کیا گیا مگر کارروائی کے آخر تک ایسا کوئی انتظام نہ کیا گیا۔چوہدری صاحب کے حلقہ احباب میں سے بعض نے اس موقع پر بہت خلوص و محنت سے تعاون کیا۔جس کا مکرم چوہدری صاحب نے تحدیث نعمت میں بہت شکر گزاری کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔اس صورت حال کے متعلق آپ فرماتے ہیں۔اپنی بے کسی اور بے سرو سامانی کے بوجھ سے لدا ہوا قیام گاہ پر واپس ہوا نماز