سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 275 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 275

۲۷۵ سردار صاحب کہتے ہیں کہ میں آدھی رات کے بعد جب کہ حضرت صاحب آرام کرنے کے لئے اپنے کمرے میں جا چکے تھے قادیان پہنچا تاہم میری طرف سے یہ اطلاع ملنے پر کہ میں قائد اعظم کا پیغام لے کر آیا ہوں آپ فورا نیچے تشریف لے آئے اور پوچھا کہ قائد کا کیا حکم ہے۔میرے بتانے پر آپ نے فرمایا کہ آپ میری طرف سے قائد کو بتا دیں کہ جماعت احمد یہ شروع سے ہی ان کے عظیم مقصد سے ہمدردی رکھتی ہے اور یہ کہ میں پہلے ہی اس مقصد کے لئے دعا کر رہا ہوں اور آئندہ بھی دعا کرتا رہوں گا اور میں جماعت کو مسلم لیگ کی مکمل حمایت کی تاکید کر چکا ہوں۔اس کتاب کے اسی صفحہ پر یہ گواہی بھی درج ہے کہ وہ قائد اعظم کا پیغام لے کر مولانا مودودی کے پاس پٹھانکوٹ بھی گئے مگر مولانا نے بڑی سرد مہری سے قائد اعظم کی خواہش کو رد کرتے ہوئے فرمایا کہ میں ”ناپاکستان کے لئے دعا اور اس مقصد کے لئے مدد کیسے کر سکتا ہوں؟ پنجاب اور سرحد کے انتخابات میں مسلم لیگ کی غیر معمولی کامیابی سر خضر حیات کا استعفیٰ کے بعد حصول پاکستان میں ایک اور بہت بڑی روک یا مشکل پیدا ہو گئی۔پنجاب میں ان دنوں یو ننیسٹ پارٹی کی حکومت تھی جس کے سربراہ سر خضر حیات ٹوانہ تھے۔یو ننیسٹ پارٹی ایک غیر فرقہ دارانہ پارٹی تھی جس میں ہندو مسلم اور سکھ سب ہی شامل تھے۔مگر مسلم لیگ کے عروج و ترقی کے ساتھ ساتھ اس پارٹی میں مسلم اثرات کم ہوتے گئے۔قائد اعظم نے سر خضر حیات کو مسلم لیگ میں شامل ہونے کا مشورہ دیا مگر انہوں نے اس مشورہ کو درخور اعتناء سمجھا۔سر خضر حیات پاکستان کے تو حق میں تھے مگر ان کے خیال میں ان کی پارٹی پنجاب کے مسلمانوں کی بہتر رنگ میں خدمت کر سکتی تھی۔اس لئے وہ مسلم لیگ میں شامل ہونے اور پنجاب کی وزارت سے مستعفی ہونے کو غیر ضروری سمجھتے رہے۔تاہم مسلم لیگ کی حکومت یا پاکستان کے قیام کیلئے ان کا حکومت سے الگ ہونا ضروری تھا۔اس اہم موڑ اور اس سلسلہ میں پیش رفت کے متعلق حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کا مندرجہ ذیل حقیقت افروز بیان بہت سے اور امور پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔آپ فرماتے ہیں:۔وزیر اعظم اکیلے نے اپنے ۲۰۔فروری ۱۹۴۷ء کے بیان میں اعلان فرمایا کہ تقسیم ملک کے بغیر چارہ نہیں اور یہ کہ ملک معظم کی حکومت ہندوستان کے نظم و نسق کے اختیارات ہندوستان کو سپرد کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔اس پر عملدرآمد کا طریق یہ ہو گا کہ حکومت کے اختیارات صوبائی حکومتوں یا کسی متوازی ادارے کے سپرد کر دیئے