سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 256
۲۵۶ ہوئے آپ فرماتے ہیں۔” جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے دماغ کے پیچھے ایک پریشانی اور تشویش پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ دل لگا کر اور انہماک کے ساتھ کام نہیں کر سکتے۔چونکہ ہندوؤں کا مذہب کوئی تفصیلی مذہب نہیں ہے بلکہ دراصل ان کا خیال ہی ان کا مذہب ہے اس لئے وہ جو کام کرتے ہیں اس کو اپنا مذ ہب اپنا مقصود اور ذاتی اور قومی ترقی کا ذریعہ سمجھ لیتے ہیں اور اسے خوب دل لگا کر کرتے ہیں لیکن اس کے بالمقابل اسلام ایک تفصیلی مذہب ہے زندگی کے ہر شعبہ کے متعلق وہ ہمیں بتاتا ہے کہ یوں کرو اور یوں نہ کرو یہ چیز گو برکت کا موجب ہونی چاہئے تھی لیکن مسلمانوں نے بد قسمتی سے اسے اپنے لئے ایک لعنت بنالیا ہے کیونکہ ایک طرف تو غیر اسلامی ماحول میں رہنے کی وجہ سے مسلمانوں کو اسلام کی ہدایات کی خلاف ورزی کرنی پڑتی ہے اور دو سری طرف ہر قدم اور ہر مرحلہ پر ان کے دماغ یہ خلش اور دغدغہ محسوس کرتے ہیں کہ ہم اسلام کے احکام کی خلاف ورزی کے جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ایک طرف تو ماحول کے اثر کی وجہ سے وہ مثلا سود کا لین دین کرنے اور حلال اور حرام کی تمیز نہ کرنے پر اپنے آپ کو مجبور پاتے ہیں اور دوسری طرف ہر غیر اسلامی فعل کرتے وقت انہیں یہ خیال بھی آتا رہتا ہے کہ ہم اسلام کے خلاف یہ کام کر رہے ہیں اس لئے اس کے بدلہ میں خدا ہمیں سزا دے گا۔یہ خلش جو دلوں میں اکثر رہتی ہے ان کے اندر اضطراب بزدلی اور تزلزل کی کیفیت پیدا کر دیتی ہے اور ان کی قوت عملیہ کو کمزور کرتی چلی جاتی ہے۔ایک اور وجہ سستی اور کاہلی کی یہ ہے کہ جب تک مسلمانوں میں بادشاہت رہی ان میں یہ غلط اطمینان رہا کہ ہم ہمیشہ بادشاہ رہیں گے لیکن جب بادشاہت سے وہ گرے تو ان کے دلوں میں مایوسی پیدا ہو گئی اور انہوں نے ملی بیداری کی جدوجہد چھوڑ دی۔یہ نقص اسی وجہ سے پیدا ہوا کہ مسلمانوں کی ساری کی ساری تعلیم مذہبی درسگاہوں میں علماء کے ہاتھ میں ہوا کرتی تھی اور علماء نے اول تو سار ا نصاب ہی خالص دینی مقرر کر رکھا تھا اور دوسرے انہوں نے دینی علوم میں بھی کوئی نئی ترقی اور نیا اضافہ کرنا بدعت قرار دے دیا۔چونکہ انہیں مذہبی تقدس حاصل تھا اس لئے کسی کو بھی ان کی تردید کرنے کی