سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 255 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 255

۲۵۵ " فسادات ہڑتالوں اور قانون شکنی کا ڈول ڈالا گیا تو حضور نے اس کی مخالفت فرمائی اور جماعت کو قانون کے احترام اور لاقانونیت سے بچنے کی تلقین فرمائی۔یہاں تک کہ بعض لوگوں نے یہ اندیشہ ظاہر کرنا شروع کیا کہ انگریزوں کے جانے کے بعد کانگریس کی حکومت ہوگی تو ہمارے لئے اس موقف اور کانگریس کی مخالفت کی وجہ سے پریشانی کی صورت ہو سکتی ہے۔حضرت فضل عمر نے کبھی وقتی مصلحت یا ذاتی مفاد کی خاطر اپنے اصولوں اور قومی مفاد کو قربان نہ کیا تھا۔اس بات کا علم ہونے پر آپ نے بڑے ہی خلوص اور دردمندی کے ساتھ فرمایا۔(میں) نہیں سمجھ سکتا مومن بزدل بھی ہو سکتا ہے کس قدر شرم اور افسوس کی بات ہے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے جبرو تشدد اور ظلم ہو رہا ہو۔مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے منصوبے عملی صورت اختیار کر رہے ہوں اور ہم اس وجہ سے چُپ چاپ بیٹھے رہیں کہ لوگ ناراض ہو جائیں گے۔لوگ ہمارے دوست کس دن ہوئے تھے ؟ اور پھر ہم نے کب لوگوں کی پوجا کی؟ احمدیوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ اگر وہ اپنے کام میں سستی پیدا کر کے مقامی ہندو مسلمانوں کی مخالفت سے بچ بھی گئے تو اللہ تعالیٰ ان کے لئے کوئی اور دکھ پیدا کر دے گا تا وہ غافل نہ ہو جائیں۔مومن کبھی بزدل نہیں ہوتا اس لئے ایسے خیالات دل میں نہ لانے چاہئیں۔اس تحریک سے مسلمانوں کا صریح نقصان ہو رہا ہے اور اگر اسی طرح ہوتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب ان کی وہی حالت ہوگی جو سپین میں ہوئی یاد رکھو ہر وہ پتھر جو خدا تعالیٰ کی بات منوانے اور مسلمانوں کی ہمدردی کرنے کی وجہ سے پڑتا ہے وہ پتھر نہیں پھول ہے ایسے پتھر مبارک بادی کے پھول ہیں جو خدا تعالیٰ پھینکتا ہے ان سے ڈرنا نہیں بلکہ خوش ہونا چاہئے۔۔۔ہم جو کچھ کرتے ہیں محض مسلمانوں کے فائدے کے لئے کرتے ہیں اگر وہ آج اس بات کو نہیں سمجھتے تو آئندہ نسلیں یقینا یہ کہنے پر مجبور ہوں گی کہ ایسے نازک موقع پر احمدیوں نے ان کی حفاظت کی پوری پوری کوشش کی۔" (الفضل ۵۔جون ۱۹۳۰ء) قومی ترقی اور مسلمانوں کی بہتری و بہبودی کیلئے آپ کی طبیعت میں ایک خاص جوش اور جذبہ پایا جاتا تھا یہی وجہ ہے کہ آپ ہر اس پہلو کی طرف توجہ فرماتے جو کسی طرح بھی موجب تنزل ہو سکتا ہو۔اسی طرح آپ انحطاط و زوال کی نشان دہی کرنے پر ہی اکتفاء نہ فرماتے بلکہ قومی کردار اور اخلاق کی بہتری کے ذرائع بھی تجویز فرماتے۔قوم میں پائی جانے والی ستی اور کاہلی کا ذکر کرتے