سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 240
۲۴۰ دی تھی نہ کہ آپ نے روکا تھا حالانکہ اس وقت میں نے افسروں کو اجازت دینے سے رو کا تھا اور میرے پاس قادیان کے ایک معزز ہندو کا خط موجود ہے انہوں نے اقرار کیا ہے کہ میں نے پہلے مذبح کو روکا تھا۔غرض ہم نے ہر طرح ان کا خیال رکھا اور لمبے عرصہ تک رکھا حالانکہ اس عرصہ میں بھی یہ لوگ ہمیں نقصان پہنچانے کی ہر طرح کوشش کرتے رہے اور میں سمجھتا ہوں جو طریق انہوں نے اس دفعہ اختیار کیا ہے اگر اس کی بجائے سیدھی طرح ہی میرے پاس آتے تو جس قدر ممکن ہو تا میں ان کا خیال رکھتا اور میرے ذہن میں ایسی تجاویز تھیں کہ ان پر عمل کرنے سے ہندو اور سکھ صاحبان کی دلجوئی ہو سکتی تھی۔مگر ان میں سے ایک فریق نے تو دھمکی دی کہ اگر مدیح جاری ہوا تو فساد ہو جائے گا اور چونکہ دھمکی کوئی باغیرت انسان برداشت نہیں کر سکتا اس لئے میں نے بھی کہہ دیا جو فساد کرنا چاہتے ہوں وہ کر کے دیکھ لیں۔دوسرا فریق ملنے کا وعدہ کر کے نہ آیا اس نے سمجھا وہ زور سے جو چاہے منوالے گاورنہ اگر یہ لوگ میرے پاس آتے تو ان کا مدعا ان کے اختیار کردہ طریق سے زیادہ بہتر حاصل ہو تا۔میں نہیں سمجھتا گورنمنٹ کس طرح ایسا ظالمانہ اور خلاف عقل فعل کر سکتی ہے کہ مذبح کو روک دے۔۔۔۔کئی ہندوؤں نے میری اس چٹھی کے جواب میں جو میں نے شائع کی ہے تسلیم کیا ہے کہ قانون کے ذریعہ اس کا تصفیہ نہیں ہو سکتا ایسی باتیں آپس کے سمجھوتہ سے ہی طے ہو سکتی ہیں اور قانون کی نسبت زیادہ عمدگی سے طے ہو سکتی ہیں مگر اس طریق کو چھوڑ کر جبر کا رنگ اختیار کیا گیا اس لئے ہم بھی مجبور ہیں کہ حریت کی روح دکھائیں اور اپنا حق حاصل کریں۔پس ہم اب اسے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہاں غور کرنے کیلئے اب بھی تیار ہیں بشر طیکہ پہلے مذبح قائم کر دیا جائے۔جنہوں نے مذیح گرایا ہے وہ پہلے اسے بنا دیں اور پھر میرے پاس آئیں اور مجھ سے بات کریں۔مذبح کے کھڑے ہونے سے پہلے نہیں اس صورت میں ہم تمام وہ طریق اختیار کریں گے جن سے اپنی عزت قائم کر سکیں اور دنیا کو بتادیں کہ ہم کسی کے غلام ہو کر رہنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔" ، (فاروق ۱۴۔اکتوبر ۱۹۲۹ء) اس مسئلہ کی سنگینی اور اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے ایک اور موقع پر حضور نے اپنے ایک تحریری بیان میں فرمایا :-