سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 239 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 239

۲۳۹ لوگوں کے زخم مندمل کرنے آئے ہیں نہ کہ خون بہانے کیلئے۔پس ہم اب بھی یہی کہیں گے کہ ہم دنیا میں امن اور صلح قائم کریں گے مگر باوجود اس کے میں بتا دینا چاہتا ہوں اگر کوئی ہمارے اس امن پسندی کے جذبات سے غلط فائدہ اٹھا کر قدم اٹھانا چاہے تو اسے معلوم ہونا چاہئے خدا تعالی کی جماعتوں نے کبھی پیٹھ نہیں دکھائی اور پہلوں کی سنت پر عمل کرتے ہوئے بتایا۔ہم یوں دعویٰ نہیں کیا کرتے اور اس وقت بھی میں کوئی دعوئی کرنا پسند نہیں کرتا اس لئے میں اس بات کو طول دینا نہیں چاہتا بلکہ صرف اتنا کہتا ہوں جب کوئی ایسا موقع آئے گا اس وقت ہم دکھا دیں گے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں اور کیا کرتے ہیں۔مومن کا کام وقت اور موقع پر کر کے دکھانا ہوتا ہے اس لئے اسے کسی دعویٰ کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن چونکہ خیالات کا اظہار نہ کرنے کی وجہ سے دوسرے دھوکا کھا سکتے ہیں اس لئے میں فساد بڑھانے کی غرض سے نہیں بلکہ امن پسندی کی نیت سے بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہم قیام امن کیلئے سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں لیکن کوئی ایسی بات برداشت نہیں کر سکتے جس سے بے غیرتی اور بے قمیتی پیدا ہو۔مدیح کے سوال پر میں نے ٹھنڈے دل سے غور کیا تو میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ سوال یہ نہیں کہ سکھوں اور ہندوؤں نے اینٹوں کی ایک چار دیواری گرادی یا یہ کہ ایک خاص غذا کھانے سے مسلمانوں کو روک دیا بلکہ سوال یہ ہے کہ کوئی قوم اپنی نجابت اور شرافت کو ثابت کرنے کیلئے کبھی ایسی درندگی برداشت نہیں کر سکتی کہ ایک دوسری قوم اسے کہے کہ جو میں کہوں وہ کرے اور جس کی میں اجازت دوں وہ کھائے۔اس قوم سے بے غیرت قوم اور کوئی نہیں ہو سکتی جو اپنے کھانے پینے کو دوسری قوم کے اختیار میں دے دے۔اور ہم نے کسی غیر مسلم کو مجبور نہیں کیا کہ اسلام کی تعلیم پر عمل کرے لیکن اس بات کی بھی کسی کو اجازت نہیں دی کہ مسلمانوں کو وہ اپنے مذہب کی تعلیم پر چلنے کیلئے مجبور کرے۔ہم نے ان لوگوں (ہندوؤں) کا ہمیشہ خیال رکھا یہاں کے لوگ گواہ ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو یہاں سے اس لئے نکال دیا کہ اس نے گائے کا گوشت فروخت کیا اور جب تک میں نے یہ محسوس نہیں کیا کہ اس کام کی واقعی ضرورت ہے اس وقت تک اس کی اجازت نہیں دی۔ممکن ہے یہاں کے لوگ غصہ کی حالت میں اس کا انکار کر دیں جس طرح انہوں نے کہا تھا کہ گورنمنٹ نے اجازت نہیں بڑھ کر