سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 229 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 229

۲۷۹ لمبا فاصلہ طے کر چکی ہو۔آمین ثم آمین" اس تصنیف کے سلسلہ میں صد را انجمن احمدیہ کی سالانہ رپورٹ ۱۹۳۱ء میں تحریر ہے کہ :۔راؤنڈ ٹیبل کانفرنس لندن کے موقع پر خان صاحب فرزند علی صاحب امام مسجد لندن کی معرفت اس کا انگریزی ترجمہ انگلستان میں عام طور پر شائع کیا گیا اور انگریز اہل الرائے احباب کے علاوہ ہندوستان کے تمام نمائندوں کو بھی ایک ایک کاپی دی گئی اور اس سے اسلامی نقطہ نگاہ اس قدر واضح ہو گیا اور مسلمان نمائندوں کو اس قدر تقویت پہنچ گئی کہ مسلمان نمائندے جو متزلزل ہو رہے تھے وہ مضبوط ہو گئے اور یہ ان تصانیف کا ہی نتیجہ تھا کہ مسلمان نمائندوں نے دنیا کے سامنے پہلی مرتبہ متفقہ طور پر اپنے مطالبات کو کامیابی اور خوبی کے ساتھ پیش کیا اور انگلستان کے اہل الرائے لوگوں پر اس کا اس قدر گہرا اثر ہوا کہ وہ لوگ جو چند روز پہلے اس عظیم الشان ملک کو ہندوؤں کے ہاتھوں میں دینے کو تیار بیٹھے تھے اس غلطی سے متنبہ ہو گئے اور مسلمانوں کی ہندوستانی خصوصی حیثیت کے قائل ہو کر ان کے مطالبات کی معقولیت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئے اس موقع پر یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں مسلمانوں کے حقوق کی نمائندگی کرنے میں اور سیاسیات ہند کے متعلق ایڈیٹران اخبارات اور مدیران انگلستان سے ملاقاتیں وغیرہ کرنے میں جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب بیرسٹر ایٹ لا اور جناب خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب امام لنڈن مسجد نے بہت بڑا حصہ لیا۔جزاهم الله احسن الجزاء" در پورت سالانه صد رانجمن احمد به ۳-۱۹۳۰، ص ۱۱۰۹٬۱۰۸ اس کتاب کو مذکورہ بالا اہل الرائے اصحاب نے بہت پسند کیا ان میں سے بعض کی آراء اور تبصرے درج ذیل ہیں۔لارڈ میسٹن سابق گور نریوپی۔” میں آپ کا بہت ممنون ہوں کہ آپ نے مجھے امام جماعت احمدیہ کی نہایت دلچسپ تصنیف ارسال فرمائی ہے۔میں نے قبل ازیں بھی ان کی چند تصنیفات دلچپی سے پڑھی ہیں۔مجھے امید ہے کہ اس کتاب کا پڑھنا میرے لئے خوشی اور فائدے کا موجب ہو گا۔" لیفٹیننٹ کمانڈر کینوردی ممبر پارلیمینٹ۔