سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 212 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 212

۲۱۲ مقرر کر رکھا تھا۔ستم ظریفی کی انتہاء یہ ہے کہ اس زمانے میں ایسے نام نہاد مسلم قائدین کی بھی کوئی کمی نہ تھی جو ہندوؤں کی چالوں کو سمجھ کر ان کا مداوا کر نیکی بجائے انہیں اپنے ہر دکھ کی دوا سمجھتے اور ان کے بتائے ہوئے رستہ پر آنکھیں بند کر کے چل پڑتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو ایسا بیدار مغز رہنما عطا فرمایا تھا جس کی نظر ہر اس امر پر تھی جو قومی ترقی کیلئے ضروری تھا آپ نے بڑے موثر پیرائے میں بار بار ہندوؤں کے مقابلہ کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی کی تلقین فرمائی۔ایک موقع پر جب چند تعلیم یافتہ نوجوان حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور قومی ترقی کے متعلق حضور سے مشورہ ورہنمائی طلب کی تو حضور نے فرمایا:۔ہند و مالدار اور تجارت پر قبضہ کئے ہوئے ہیں اگر مسلمان اس طرف توجہ کریں تو بھی کامیابی ان کے لئے آسان نہیں۔لیبر مسلمانوں کے قبضہ میں تھی وہ بھی نکل رہی ہے وجہ یہ ہے کہ مسلمان کسی پیشہ کو مد نظر رکھ کر تعلیم حاصل نہیں کرتے۔اب ہوائی سروس ایک نیا کام شروع ہوا ہے اس میں ہندو داخل ہو رہے ہیں مگر مسلمان بہت کم توجہ کر رہے ہیں۔صنعت و حرفت کے لحاظ سے شیشہ کا کام خوب چل سکتا ہے۔انبالہ میں ایک کارخانہ ہے ( اس کے مینیجر نے مجھے لکھا ہے کہ دس ہزار روپیہ میں یہ کام چل۔ہے پہلے اس کار خانہ میں جو چیزیں بنتی تھیں وہ معمولی ہوتی تھیں مگر اب اچھی اور صاف عا؟ سکتا بننے لگی ہیں۔" ہندو اکثریت اور اقتصادی برتری کی وجہ سے یہ تاثر عام پایا جاتا تھا کہ تجارت تو ہندو بنیا ہی کر سکتا ہے مسلمان تجارت اور حساب کتاب میں ہندو کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔اس خیال کو اس امر سے بھی تقویت ملتی تھی کہ گنتی کے چند جاگیرداروں کے سوا جن کے مفادات بھی ہندوؤں سے وابستہ تھے) قریباً سبھی مسلمان مالی لحاظ سے خود کفیل نہ ہونے کی وجہ سے عملاً ہندو ساہو کاروں کے بالواسطہ یا بلا واسطہ قرض اور سود کے ایسے خوفناک جبڑوں میں پھنسے ہوئے تھے کہ اس میں سے نکلنے کی کوشش اپنی ہلاکت کو دعوت دینے والی بات تھی۔ان حالات میں قوم کو کسی تبدیلی کی طرف توجہ دلانا ایک ایسے بالغ نظر قائد کا کام ہی ہو سکتا تھا جسے خدائی تائید اور نصرت پر پورا اعتماد اور بھروسہ ہو۔اس انتہائی اہم اور بنیادی خدمت کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے فدائی ملت حضرت فضل عمر کو منتخب فرمایا اور آپ نے کمال جرأت اور دلیری کے ساتھ اس اہم اور قومی خدمت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا :-