سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 209 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 209

۲۰۹ ” یہ تو مجھے یقین ہے کہ سکھ ضرور پشیمان ہو کر سامنے آئیں گے لیکن بہتر یہی ہے کہ وہ اس وقت سمجھ جائیں۔" (الفضل ۵۔جون ۱۹۴۷ء) جماعت احمدیہ کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے تاہم قومی و ملی مفاد کی اقتصادی منصوبہ بندی خاطر جب اور جہاں ضرورت پیش آئی وہاں یہ جماعت صف اول میں موجود خدمت و رہنمائی کی سعادت میں پوری توجہ خلوص اور محنت سے سرگرم عمل نظر آتی ہے۔قائد اعظم نے اپنے ایک حقیقت افروز بیان میں فرمایا تھا کہ پاکستان کی بنیاد تو اس دن ہی رکھ دی گئی تھی جب ہندوستان میں پہلا شخص مسلمان ہوا تھا۔اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگر چودھویں صدی کے ابتدائی زمانہ کی طرف نظر ڈالیں تو ایک انتہائی خوفناک اور بھیانک منظر سامنے آتا ہے۔عیسائی پادریوں کی افواج انگریز حکومت کی پشت پناہی سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی فتح اور یقینی کامیابی کے نشہ میں مسرور و شاداں ہر طرف چھائے ہوئی نظر آتی ہیں ، ہندو اپنی تجارتی سرگرمیوں میں مست جارحانہ انداز میں بڑھتے ہوئے نظر آتے ہیں۔اس کے بالمقابل مسلمانوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہو رہی تھی۔تعلیم ، تجارت اور ترقی کے تمام کاموں میں انتہائی پسماندہ سرکاری ملازمتوں میں چپراسی اور مددگار کارکن سے اوپر کوئی مسلمان خال خال نظر آتا تھا، کاروباری مراکز میں کوئی مزدور اور قلی تو مسلمان ہو سکتا تھا مگر تاجر اور متمول حیثیت میں نہ ہونے کے برابر حالت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ اکثر مسلمان زمینداروں کی زمین اور فصلیں بھی ہندو سرمایہ کاروں کے ہاتھوں فروخت یا گردی ہوتی جارہی تھیں۔ان حالات کی وجہ سے مسلمان ہر طرف نکبت و ذلت کا نشانہ بنے ہوئے شکست خوردگی کے زخموں کو چاٹنے میں مصروف تھے۔تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ ایسے بھیانک اور لرزہ خیز حالات میں مخالفوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اگر کسی نے مدافعانہ تحریک شروع کی تو وہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کے سوا اور کوئی نہیں تھا۔قائد اعظم کے مذکورہ بالا قول کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ مخالف طاقتیں پاکستان کی حدود کو کم کرنے بلکہ پاکستان کی بنیاد کو ختم کرنے میں مصروف تھیں مگر حضرت مرزا صاحب نے روحانی اور معنوی پاکستان کی بنیادیں استوار کرنی شروع کر دیں اور ایک برقی رو کی طرح یہ مدافعانہ جنگ یکدم چاروں طرف شروع ہو گئی اور پھر بڑھتے بڑھتے مدافعانہ جنگ ایسی جارحانہ جنگ کی شکل اختیار کر گئی کہ انگریز انگلستان میں اور ہندو آگرہ و بنارس میں اپنی مدافعت کی تدابیر سوچنے کی فکر