سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 184 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 184

۱۸۴ اور ان کو اس وقت ہوش آئے گا جب ہوش آنے کا وقت نہ ہو گا۔" (الفضل ۴۔جون ۱۹۲۶ء) حضور کی اس تعریف میں آزادی ضمیر و حریت خیال کی جو عملی شکل پائی جاتی ہے وہ قرآنی تعلیمات کا ایسا امتیاز ہے جس کے مقابل میں کسی اور مذہب کی ایسی کوئی تعلیم پیش نہیں کی جاسکتی۔ایک موقع پر جب حضور لاہور تشریف لے گئے ہوئے تھے ایک معزز مسلمان لیڈر سردار حبیب اللہ صاحب بیر سٹرایٹ لاء لاہور آپ سے ملاقات کی غرض سے تشریف لائے۔اتحاد کے متعلق ان سے گفتگو ہوتی رہی۔جس میں حضور نے یہ زریں اصول بیان فرمایا کہ :۔" جب تک مسلمانوں کے اتحاد کی بنیاد اس بات پر رکھی جائے گی کہ ان سے کچھ باتیں چھڑائی جائیں اور سب کو ایک جیسے عقائد پر جمع کیا جائے اس وقت تک کبھی اتحاد نہیں ہو گا۔اتحاد کی یہی صورت ہے کہ رواداری سے کام لیا جائے کسی کے مذہبی عقائد سے تعرض نہ کیا جائے اور مشترکہ مسائل میں مل کر کام کیا جائے۔" (الفضل ۲۰۔جولائی ۱۹۲۸ء) اگر چہ بعض حلقوں نے اپنے مخصوص مفادات کے پیش نظر اس تعریف کو پسند نہ کیا تاہم مسلم لیگ اور قائد اعظم نے عملاً اس تعریف کو اپنالا ئحہ عمل بناتے ہوئے ہی مسلم لیگ کو بر صغیر کی نمائندہ مسلم جماعت بنا دیا اور مسلم حلقوں میں انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر کے پاکستان کا حصول ممکن بنا دیا۔اگر یہ تعریف قبول نہ کی جاتی تو مسلم اتحاد یا قیام پاکستان کا مقصد کبھی بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ جب مسلم لیگ کے ایک اجلاس میں قائدا اعظم کی موجودگی میں یہ سوال پیدا کر کے مسلم لیگ کے تمام کئے کرائے پر پانی پھیرنے کی کوشش کی گئی تو قائد اعظم نے اپنے مخصوص انداز سے اسے نظر انداز کرتے ہوئے درخور اعتناء ہی نہ سمجھا۔اگر قائد اعظم مسلم کی تعریف کے اس چکر میں پھنس جاتے جس میں (بقول قائد اعظم) کانگریس کے سدھائے ہوئے پرندے انہیں پھنسانا چاہتے تھے تو وہ ۱۹۴۷ء تو کیا ۷ ۲۰۴ ء میں بھی اگر قدرت) انہیں اتنا لمبا عرصہ عطا فرماتی پاکستان سے اتنے ہی دور ہوتے جتنے وہ اپنی قوم سے مایوس ہونے کے بعد لندن میں رہائش پذیر ہو جانے کے وقت تھے۔ہمارے بیدار مغز مؤید منَ اللہ رہنما جہاں ایک طرف مسلمانوں میں باہم اتحاد ہندو مسلم اتحاد کیلئے مسلسل کوشاں تھے اور آل مسلم پارٹیز کانفرنس میں مسلمان کی ایک ایسی