سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 10
وقت یہ پیشگوئی کی گئی ہے اس وقت حضرت اقدس علیہ السلام کے مرید بھی چند سو سے زیادہ نہ تھے کہ ان کو محکمالا کر یہاں بسا دیا جا تاتو شہر بڑھ جاتا۔بے شک کہا جا سکتا ہے کہ چونکہ آپ نے دعوی کیا تھا اس لئے امید تھی کہ آپ کے مرید یہاں آکر بس جائیں گے۔لیکن اول تو کون کہہ سکتا تھا کہ اس قدر مرید ہو جائیں گے جو قادیان کی آبادی کو آکر بڑھا دیں گے۔دوم اس کی مثال کہاں ملتی ہے کہ مرید اپنے کام کاج چھوڑ کر پیر ہی کے پاس آبیٹھیں اور وہیں اپنا گھر بنائیں۔حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کا مولد ناصرہ اب تک ایک گاؤں ہے۔حضرت شیخ شہاب الدین سهروردی ، حضرت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی حضرت بہاؤ الدین صاحب نقشبندی رحمۃ اللہ علیم جو معمولی قصبات میں پیدا ہوئے یا وہاں جا کر بسے ان کے مولد یا مسکن ویسے کے ویسے ہی رہے۔ان میں کوئی ترقی نہ ہوئی یا اگر ہوئی تو معمولی جو ہمیشہ ترقی کے زمانے میں ہو جاتی ہے۔شہروں کا بڑھنا تو ایسا مشکل ہوتا ہے کہ بعض دفعہ بادشاہ بھی اگر اقتصادی پہلو کو نظر انداز کرتے ہوئے شہر بساتے ہیں تو ان کے بسائے ہوئے شہر ترقی نہیں کرتے اور کچھ دنوں بعد اجڑ جاتے ہیں اور قادیان موجوده اقتصادی پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے نہایت خراب جگہ واقع ہے۔نہ تو ریل کے کنارے پر ہے کہ لوگ تجارت کی خاطر آکر بس جائیں اور نہ ریل سے اس قدر دور ہے کہ لوگ بوجہ ریل سے دُور ہونے کے اسی کو اپنا تمدنی مرکز قرار دے لیں۔پس اس کی آبادی کا ترقی پانا بظا ہر حالات بالکل ناممکن تھا۔عجیب بات یہ ہے کہ قادیان کسی دریا یا نہر کے کنارے پر بھی واقع نہیں کہ یہ دونوں چیزیں بھی بعض دفعہ تجارت کے بڑھانے اور تجارت کو ترقی دے کر کی آبادی کے بڑھانے میں ممد ہوتی ہیں۔غرض بالکل مخالف حالات میں اور بلا کسی ظاہری سامان کی موجودگی کے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے پیشگوئی کی کہ قادیان بہت ترقی کر جائے گا اس پیشگوئی کے شائع ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کی جماعت کو بھی ترقی دینی شروع کر دی اور ساتھ ہی ان کے دلوں میں یہ خواہش بھی پیدا کرنی شروع کر دی کہ وہ قادیان آکر بسیں اور لوگوں نے بلا کسی تحریک کے شہروں اور قصبوں کو چھوڑ کر قادیان آکر بسنا شروع کر دیا اور ان کے ساتھ ساتھ دوسرے لوگوں نے بھی یہاں آکر بسنا شروع کر دیا۔ابھی اس