سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 169
149 سب سے زیادہ زور دے رہا تھا۔ایک اور تحریک جس کی اطلاع ۲۹۔اکتو بر کولندن سے شائع ہوئی ہے۔برطانیہ اور امریکہ کے خلاف نیوز آف ورلڈ کے نامہ نگار نے یروشلم سے شائع کی۔چنانچہ اس نے لکھا کہ :۔فلسطین میں یہودیوں کی ریاست بنانے سے برطانیہ کو وہ تمام اڈے حاصل ہو جائیں گے جن کی اسے ضرورت ہے اور جن کی مدد سے وہ نہر سویز کا محافظ بن سکتا ہے۔اس صورت میں فلسطین کے برطانوی نو آبادی بن جانے کا بھی امکان ہے۔اس کے عکس اگر ۱۹۳۹ء کے قرطاس ابیض پر عمل کیا گیا تو اس صورت میں یہودی اپنے مستقبل کو عربوں کے مستقبل سے وابستہ کر دیں گے اور وہ اہل برطانیہ کو سارے مشرق وسطی اور ہندوستان سے بھی مٹانے کیلئے راہنمائی کریں گے۔فلسطین کے مسئلہ کے متعلق نہ صرف برطانیہ اور امریکہ کے تمام لوگوں کو گمراہ کیا گیا ہے بلکہ ذمہ دار افسروں کو بھی فلسطین کے صحراؤں میں یورپ کے ہر ایک یہودی کو آباد کرنے کیلئے کونسی دلیل دی جارہی ہے۔اگر امریکہ میں رہنے والے دس یہود کنبوں میں سے ایک کنبہ کو ایک یہودی کو پناہ دینے کی اجازت دے دی جائے تو ایک لاکھ یہودیوں کے متعلق صدر ٹرومین کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔یہودی کنبے پناہ دینے سے انکار نہ کریں گے۔صدر ٹرومین کو امریکہ میں یہودیوں کے داخلہ پر سے پابندیاں دور کر دینی چاہئیں۔ہر ایک اتحادی ملک اپنی طاقت کے مطابق یہودیوں کو داخلہ کے اجازت نامے دے۔" الفضل ۳۔نومبر ۱۹۴۵ء صفحہ ۱ - ۲) یہ خبریں شائع کرتے ہوئے اخبار شہباز نے یہ عنوان رکھا ہے کہ ”یہودیوں کو امریکہ میں آباد کیوں نہیں کیا جاتا۔" الفضل ۳۔نومبر ۱۹۴۵ء صفحہ ۱۔۲) اس طرح اللہ تعالٰی نے ایسے ذرائع مہیا فرما دیئے کہ حضور نے جو کچی اور کھری بات امریکہ کے صدر کو سنائی تھی اس کی عام شہرت ہو گئی۔فلسطین کا مسئلہ دن بدن زیادہ پیچیدہ ہو تا جارہا تھا۔عالمی طاقتیں انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کی بجائے اپنی مصلحت کے پیش نظر سراسر ظلم و تعدی سے کام لیتے ہوئے میحونی پودے کو پروان چڑھانے کے درپے تھیں۔حضور اس تکلیف دہ حقیقت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔