سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 168
۱۶۸ کے لوگوں نے جن ملکوں کو گزشتہ جنگ کے بعد اپنے تصرف میں لیا ہے ان کے متعلق Mandate کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور Mandate کا ترجمہ کفالت ہے اور آج کل فلسطین کے متعلق یہی لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔پس ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ فلسطین کے متعلق عیسائی اور یہودی مسلمانوں سے یہ کہیں گے کہ یہ بھی ہمیں دے دو۔چنانچہ اب صدر ٹرومین تاریں دے رہے ہیں کہ یہود کو فلسطین میں آباد ہونے دیا جائے۔وہ خود اکاون لاکھ مربع میل کے ملک پر قابض ہیں مگر اپنے ہاں یہودیوں کو آباد نہیں ہونے دیتے اور فلسطین کا علاقہ ۲۵٬۲۴ ہزار زیادہ سے زیادہ ۵۰ ہزار مربع میل ، سمجھ لو اور اس طرح ممکن ہے کہ ننانوے اور ایک کی ہی نسبت ہو یہود کے آباد کرنے پر زور دے رہے ہیں۔وہ یہ نہیں کہتے کہ یہودی ہمارے ہاں آبسیں بلکہ یہ کہتے ہیں کہ یہود کو فلسطین میں داخل ہونے دوورنہ ہمارے یہود کہاں جائیں۔یہ کہتے ہوئے شرم بھی نہیں آتی اور دنیا میں سے کوئی نہیں پوچھتا کہ نانوے گنا زیادہ علاقہ رکھتے ہوئے امریکہ ننانوے گناہ زیادہ علاقہ رکھتے ہوئے آسٹریلیا اور نانوے گنا زیادہ علاقہ کی کالونیز (Colonies) رکھتے ہوئے انگریز کیوں یہود کو اپنے ممالک میں بسانے کیلئے تیار نہیں اور سو میں سے ایک حصہ جس کے پاس ہے اسے کہتے ہیں کہ یہود کو اپنے ہاں بسنے دو۔“ الفضل ۳۱ اکتوبر ۱۹۴۵ء صفحه ۲) حضرت فضل عمر نے قرآنی ارشادات کی روشنی میں جو بیان دیا تھا اس کی گونج امریکہ کے ایوان حکومت میں سنی گئی اور امریکی سینٹ کے ایک ممبر نے اپنی حکومت کے وزیر خارجہ کو لکھا ایوان حکومت میں سی گئی اور امریکہ کو فلسطین کے مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں اور یہ کہ وہ فلسطین میں یہود ریاست قائم کرنے کے متعلق امریکن گورنمنٹ کی کوششوں کے خلاف سینٹ میں مخالفت کریں گے۔انہوں نے کہا میں یہ بیان کر دینا چاہتا ہوں کہ امریکہ کو فلسطین میں کسی قسم کی ریاست قائم کرنے کے سلسلہ میں کوئی سروکار نہیں۔اگر ہم نے فلسطین میں یهود ریاست بنانے کا ارادہ کیا تو ہمیں ان تمام طاقتوں سے اس ریاست کی حفاظت کرنی پڑے گی جو اس کے قیام کے خلاف ہیں۔" یہ تحریک تو امریکہ سے شروع ہوئی ہے جو فلسطین میں یہودیوں کو آباد کرنے کے متعلق