سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 6
។ ہوتی رہی۔حضور کی ہدایت کے مطابق بعض علم دوست حضرات نے سنسکرت زبان اور قدیم ہندو علوم کی تعلیم ہندوؤں کی مستند درسگاہوں سے حاصل کی۔حضور کی ہدایت پر انگریزی زبان کی تو اعلیٰ تعلیم کے لئے ہمارے پیارے امام حضرت مرزا طاہر احمد صاحب اور مکرم میر محمود احمد صاحب ناصر (پرنسپل جامعہ احمدیہ ) انگلینڈ میں تعلیم حاصل کرتے رہے اور بعض واقفین زندگی نے عرب ممالک میں جاکر عربی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔مدرسہ احمدیہ ۱۹۰۵ ء میں قائم ہوا۔اسکی ترقی و استحکام کے لئے حضور نے جو مجاہدانہ کوشش فرمائی اس کا ذکر پچھلے صفحات میں ہو چکا ہے۔اس ادارہ کو مزید ترقی دیتے ہوئے طلبہ کی علمی قابلیت میں اضافہ و تربیت کے لئے جامعہ احمدیہ کے نام سے ایک الگ ادارہ ۱۵۔اپریل ۱۹۲۸ء کو حضور کی ہدایت کے مطابق قائم کیا گیا۔اس ادارہ کے پہلے پر نسپل حضرت مولانا سید سرور شاہ صاحب مقرر ہوئے۔اس ادارہ کو جماعت کی تعلیم و تربیت میں شاندار کام کرنے کا موقع ملا اور تبلیغ اسلام کے کام کو دنیا کے کناروں تک وسعت دینے کی سعادت حاصل کرنے والے بالعموم اس ادارہ کے دینی فارغ التحصیل طلبہ ہی تھے۔تعلیم کے ساتھ ساتھ عام علوم کے فروغ کی کوشستیں بھی برابر جاری رہیں۔تعلیم الاسلام کالج جس کا افتتاح حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے زمانے میں ہوا تھا اور جسے بعض قانونی مجبوریوں کی وجہ سے بند کرنا پڑا تھا حضرت مصلح موعود کے زمانہ میں یہ کالج نئے ولولوں اور نئے عزائم کے ساتھ پھر شروع کیا گیا۔حضور نے ۴۔جون ۱۹۴۴ء کو اس کا افتتاح فرمایا۔سائنسی علوم کی ترقی اور فروغ کے لئے اس کالج سے ملحق فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا ای ادارہ قائم ہوا جو اس زمانہ میں ہندوستان کے چند بہترین سائنسی اداروں میں سے ایک تھا۔اس ادارہ کا افتتاح ڈاکٹر سر شانتی سروپ بھٹناگر ڈائریکٹر کو نسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ نے ۱۹۔مئی ۱۹۴۶ء کو کیا۔عورتوں کی علمی ترقی کی طرف حضور کو بطور خاص توجہ تھی اس کی تفصیل حصہ دوم میں گزر چکی ہے۔نصرت گرلز سکول کے علاوہ آپ نے دینیات کلاسز کا اجراء فرمایا جس میں نامور جید علماء سلسلہ کے علاوہ خود حضور بھی پڑھاتے رہے اور اسی مقصد کے لئے آپ ہمیشہ مستورات میں درس قرآن دیتے رہے۔خدا تعالیٰ نے آپ کی کوششوں کو نوازا اور احمدیوں کی اوسط تعلیم ہمیشہ ہی دو سروں کے مقابلہ میں بہت زیادہ رہی۔