سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 136 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 136

اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو کامیابی کے ساتھ واپس لائے گا۔" اسی خطاب میں حضور نے ربوہ کی ابتدائی حالت کی یاد تازہ کرتے ہوئے فرمایا :- ابتدائی حالت میں یہاں بسنے والے ۳۵ آدمی تھے ان کے لئے سڑک کے کنارے خیمے لگائے گئے جہاں اب بھی بعض کمرے بنے ہوئے ہیں۔۔۔ایک سال کے قریب وہاں گزارا۔پھر لاکھوں روپے خرچ کر کے عارضی مکان بنائے گئے تاوہ ان میں رہیں جنہوں نے شہر آباد کرنا ہے۔پھر لاکھوں روپے خرچ کر کے یہ بلڈنگز بنیں جو اب تمہیں نظر آتی ہیں۔اس عظیم الشان صدمہ کے بعد جماعت نے اتنی جلدی یہ جگہ اس لئے بنائی تاوہ مل کر رہ سکیں۔اکٹھے رہ کر مشورہ کر سکیں۔المصطلح ۲۵- دسمبر ۱۹۵۳ء) ۱۹۵۵ء میں جب حضور علاج کی خاطر یورپ تشریف لے گئے ہوئے تھے۔آپ نے وہاں سے غلام محمد صاحب اختر ناظر اعلیٰ کے نام اپنے ایک مکتوب میں تحریر فرمایا :۔”ربوہ میں لوگوں کی صحت کیلئے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے نہایت ضروری ہیں اور درخت بغیر پانی کے نہیں لگ سکتے۔پہلے ٹیوب ویل کو درست کرایا جائے بلکہ بہتر ہو کہ بجلی کا انجن اس کی جگہ فوری لگ جائے تاکہ پانی با فراط مہیا ہو سکے اور پہلے لگے ہوئے درخت سوکھ نہ جائیں اس کے علاوہ بھی مزید ٹیوب ویل بھی جلدی لگائے جانے ضروری ہیں۔۔موجودہ درختوں سے بھی دس پندرہ گنے بلکہ زیادہ درخت لگائے جائیں۔بجلی سے اب کام بہت آسان ہو گیا ہے۔" ربوہ کی آبادی و خوبصورتی اور اہل ربوہ کی صحت و سلامتی کیلئے فکر مندی کی یہ عجیب مثال ہے کہ ہمارے پیارے آقا یہ ہدایات اس وقت جاری فرما رہے ہیں جب آپ شدید بیماری کی وجہ سے خود صاحب فراش ہیں۔ڈاکٹروں نے مکمل آرام کا مشورہ دے رکھا ہے مگر ایسی حالت میں بھی آپ جماعتی ترقی اور ربوہ کی آبادی کیلئے فکر مند اور کوشاں ہیں۔ربوہ رہے کعبہ کی بڑائی کا دعا گو ریوں کو پہنچتی رہیں کعبہ کی دعائیں حضرت مصلح موعود ربوہ کو ایک مثالی شہر بنانا چاہتے تھے جہاں تک اس کی ظاہری خوبصورتی اور عمدگی کا تعلق ہے۔حضور کی وقتاً فوقتاً جاری ہونے والی متعد دہدایات میں سے بعض کا ذکر ہو چکا