سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 134 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 134

1 اور عمارت میں شروع کیا گیا۔جو اس وقت سیمنٹ بلڈنگ کے نام سے مشہور تھی۔جامعہ احمدیہ کا آغاز بھی کوئی وقت ضائع کئے بغیر لاہور میں ہی ہو گیا۔آہستہ آہستہ تعلیمی ادارے چنیوٹ اور پھر ربوہ میں منتقل ہو گئے۔جامعہ احمدیہ کچھ عرصہ احمد نگر میں رہا اور اس کے بعد ربوہ میں منتقل ہو گیا۔ربوہ میں بھی ابتداء خیموں سے ہوئی اس کے بعد کچی عمارتیں تعمیر ہوئیں اور شمع احمدیت کے پروانے ہر قسم کے حالات و مشکلات کے سامنے سینہ سپر رہے تا کہ خدا کی تقدیر پوری ہو اور نیا مرکز آباد ہو سکے۔حضور کی ابتدائی رہائش گاہ بھی ایک کچی عمارت ہی تھی جس کے پاس نماز کی ادائیگی کیلئے ایک عارضی قسم کی عمارت " جائے نماز " کے طور پر تعمیر کی گئی تھی۔پختہ عمارات کی تعمیر کے مرحلہ میں سب سے پہلے مسجد مبارک کی بنیاد ۳۔اکتوبر ۱۹۴۹ ء کو رکھی گئی۔حضور کی ذاتی رہائش گاہ کی بنیاد ۲۹۔مئی ۱۹۵۰ء کو جب کہ ۳۱۔مئی ۱۹۵۰ء کو قصر خلافت، تعلیم الاسلام ہائی سکول دفاتر صد را انجمن احمدیہ ، دفاتر تحریک اور دفتر لجنہ اماءاللہ کی بنیاد رکھی گئی۔مسجد مبارک کے افتتاح کے پر مسرت تاریخی موقع پر دور و نزدیک سے کثرت سے احمدی احباب تشریف لائے ہوئے تھے۔حضور کی ہدایت کے مطابق بنیاد رکھنے کی جگہ اور اینٹ گار اوالی جگہ کے درمیان سات صفیں بنائی گئیں۔پہلی صف صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام دوسری صف خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے افراد۔تیسری صف واقفین زندگی چوتھی صنف امراء ناظر صاحبان پانچویں صف مہاجرین قادیان ، چھٹی صف خاندان حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی خواتین مبارکہ اور ساتویں صف صحابیات و مهاجرات قادیان کی بنائی گئی۔ہر صف نے دست بدست تین تین اینٹیں اور سیمنٹ کی تعاریاں حضور کی خدمت میں پیش کیں اور حضور نے اپنے دست مبارک سے بنیاد میں اینٹیں نصب فرما ئیں۔بنیاد میں مسجد مبارک قادیان کی دو اینٹیں بھی لگائی گئیں۔اس سارے عمل کے دوران زیر لب دعاؤں کا سلسلہ جاری رہا۔بعد میں حضور نے نہایت سوزو گداز کے عالم میں تعمیر کعبہ کے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام والی قرآنی دعائیں تلاوت فرمائیں اور اس کے بعد اجتماعی دعا کروائی۔اور حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا :۔" حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام تھا کہ آپ کے ہم اور غم نے اسماعیل کا درخت اُگایا۔اس میں یہ پیشگوئی تھی کہ ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام یا ان کی روح کے لئے نہایت تکلیف دہ ہو گا۔ایسا تکلیف دہ کہ صف