سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 98 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 98

۹۸ دیکھا۔یہ اراضی ایک ایسی پہاڑی کے دامن میں واقع ہے جسے بعض روایتوں کی بناء پر گر و بالناتھ کاٹیلہ کہتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ رانجھا نے اس ٹیلہ پر گو رو بالناتھ سے لوگ لیا تھا اور کان چھدوا کر مندرمیں ڈالی تھیں۔کوئی سات سو برس سے یہ ٹیلہ ہندو جوگیوں کے قبضہ میں تھا۔لیکن گذشتہ فسادات کے موقع پر یہ جو گی ہندوستان چلے گئے تھے۔آج کل یہ ٹیلہ جس پر تقسیم سے پہلے اچھی خاصی آبادی تھی ویران پڑا ہے۔اس قطعہ زمین میں کبھی کبھی پولیس والے چاند ماری کے لئے آجاتے ہیں۔ورنہ یہ زمین بالکل بیکار پڑی رہتی ہے۔مرزا صاحب نے کہا کہ اگر حکومت اس رقبہ میں ایک صنعتی شہر تعمیر کرانے کا پروگرام بنالے تو اس قسم کے دوسرے مقامات پر بھی نئے نئے شہر بننے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ٹیلہ بالناتھ سے واپسی پر اخبار نویسوں کی طرف سے مولانا عبد المجید صاحب سالک نے ربوہ کے میزبانوں کا شکریہ ادا کیا اور یہ قافلہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کے ہمراہ رات کے وقت واپس لاہور پہنچ گیا۔" روزنامه " مغربی پاکستان" نے "شہر جدید طرز اور امریکی نوعیت کا ہو گا" کی شہ سرخی کے ساتھ لکھا:۔لاہورے۔نومبر۔آج مرزا بشیر الدین محمود احمد امیر جماعت احمدیہ کی دعوت پر لاہور کے تمام اخبارات کی ایک پارٹی نے ربوہ کا دورہ کیا جو چنیوٹ سے چھ میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔جب پریس پارٹی ربوہ پہنچی تو وہاں پر سر کردہ اصحاب نے اخبارات کے نمائندوں کا خیر مقدم کیا۔ربوہ کاوہ علاقہ دکھایا جہاں جدید طرز کا ایک چھوٹا سا شہر آباد کیا جائے گا۔یہ جگہ چھوٹے چھوٹے ٹیلوں کے دامن میں ایک خوشنما قطعہ اراضی ہے۔مرزا بشیر الدین محمود احمد نے اخبارات کے نمائندوں کو بتایا کہ جماعت احمدیہ نے حکومت مغربی پنجاب سے ایک ہزار سے کچھ زیادہ ایکٹر زمین خریدی ہے جہاں امریکی طرز پر ایک چھوٹا سا شہر تعمیر کیا جائے گا۔ہسپتال کالج سکول ویٹرنری ہسپتال ریلوے اسٹیشن ، ڈاک خانہ واٹر ورکس اور بجلی گھر لگانے کا بندوبست کیا جا چکا ہے۔ماہرین تعمیرات نے شہر کی تعمیر کا ابتدائی نقشہ امریکی طرز پر تیار کر لیا ہے جو عنقریب ٹاؤن پلینر (Town Planer) کی منظوری کے لئے ان کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔اس شہر کی ضروری عمارتوں کی تعمیر پر تقریباً تیرہ لاکھ روپیہ صرف ہو گا جو جماعت برداشت کرے