سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 97
96 " ربوہ پہنچنے پر مرزا بشیر الدین محمود احمد نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ انہوں نے نئے شہر کی تعمیر کا نقشہ امریکی طرز پر بنوایا ہے اور یہ شہر پاکستان بھر میں اپنی نوعیت کا پہلا شہر ہو گا۔اس میں سکول ، کالج ، ہسپتال ، واٹر ورکس اور بجلی گھر ، غرضیکہ ایک جدید طرز کے شہر کے تمام لوازمات مہیا کئے جائیں گے۔ریلوے سٹیشن اور ڈا کھانہ ، تار گھر کھولنے کیلئے حکومت سے اجازت حاصل کر لی گئی ہے اور بہت جلد ان کی تعمیر کا کام شروع ہو جائے گا۔مرزا صاحب نے بتایا کہ وہ خشک اور بنجر پہاڑیوں کو سیر گاہوں میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔تاکہ ان پہاڑیوں پر مختلف قسم کے پھول اور سبزی وغیرہ اگانے سے ایک تو موسم گرما میں اس نئے شہر کے لوگ گرمی کی شدت سے محفوظ رہ سکیں اور دوسرے ان پہاڑیوں پر سیر و تفریح کا لطف بھی اٹھایا جا سکے۔آپ نے اخباری نمائندوں کے سامنے ربوہ نام کی تاریخی اہمیت و مذہبی حیثیت کو اپنے الہامات اور رؤیا کی روشنی میں واضح کیا اور امید ظاہر کی کہ وہ ایک سال کے اندراندر نئے شہر کی تعمیر کے کام کو مکمل کر لیں گے۔مرزا صاحب نے بتایا کہ نہ صرف مغربی پنجاب بلکہ مغربی پاکستان میں اس قسم کے کئی بنجر اور غیر آباد علاقے بے مصرف پڑے ہیں۔اگر مشرقی پنجاب کے بڑے بڑے شہروں مثلاً جالندھر، امرتسر اور لدھیانہ کے مسلمان اپنی سابقہ جماعت کو قائم رکھنا چاہتے ہیں اور اپنی صنعتوں کو کو آپریو (Cooperative) رکھنا چاہتے ہیں تو ان کے لئے لازم ہے کہ وہ ربوہ کی قسم کے نئے قصبوں کو بسا ئیں ویسے بھی کئی دفاعی ضرورتیں اس امر کا تقاضا کرتی ہیں کہ ہمارے صنعتی علاقے سرحد سے کافی دور ہوں اور ان کی ڈیفنس کا کوئی قدرتی انتظام ہو۔صرف اسی صورت میں ہم اطمینان سے بیٹھ کر اپنی صنعتوں کو ترقی یافتہ ممالک کے معیار پر لا سکتے ہیں۔" آپ نے بتایا کہ یہاں ربوہ اور سرگودھا جانے والی سڑک پر کوئی سترہ اٹھارہ میل کے فاصلہ پر پہاڑیوں کے دامن میں تین چار (ہزار ایکڑ پر مشتمل ایک سرکاری قطعہ زمین پڑا ہے۔اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔اگر لدھیانہ یا امرتسر کے کاریگر اس قطعہ زمین کو حاصل کر کے یہاں ایک صنعتی شہر آباد کرنا چاہیں تو حکومت سے بھی مدد مل سکتی ہے۔اخبار نویسوں کے اشتیاق پر مرزا صاحب نے اس قطعہ زمین کے دورہ کا بھی پروگرام بنایا چنانچہ تیرے پھر پورے قافلے نے اس سرکاری اراضی کو بھی