سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 93
۹۳ کہ پانی وافر ہو جائے گا۔اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ الہام کس رنگ میں پورا ہو گا۔ممکن ہے ہمیں نہر سے پانی مل جائے یا دریا سے پانی لے لیا جائے۔یا ہمیں کوئی اور (جگہ) مل جائے جہاں پانی ہو اور اس وقت تک ہمیں اس کا علم نہ ہو۔بہر حال یہ نہایت ہی خوشکن الہام ہے اور یہ الہام حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے ایک الہام کی تائید کرتا ہے جو یہ ہے کہ يُخْرِجُ هَتُهُ وَغَمُّهُ دَوحَةَ اسْمُعِيلَ ( تذکره صفحه ۵۹۵) یعنی خدا تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے غم اور فکر اور دعاؤں کی وجہ سے ایک اسماعیلی درخت پیدا کرے گا۔وہ دوحہ اسماعیل میں ہی ہوں اور اس سے بھی ہجرت کی خبر نکلتی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بتایا گیا تھا کہ خدا تعالیٰ تیری اولاد میں سے ایک ایسا شخص پیدا کرے گا جو ایک بے آب و گیاہ وادی میں آبادی کے سامان پیدا کرے گا۔پہلے تو ہم اس کی قیاسی تشریح کرتے تھے لیکن اب خدا تعالیٰ نے میرے ذریعہ عملی طور پر اس کی تشریح کر دی اور مجھے اسماعیل قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ :۔جاتے ہوئے حضور کی تقدیر نے جناب پاؤں کے نیچے سے میرے پانی بہا دیا یعنی جہاں میرا پاؤں پڑا خدا تعالیٰ نے وہاں پانی بہا دیا۔" (الفضل ۱۸۔اگست ۱۹۴۹ء) ربوہ کی تعمیر کے کام تیزی سے جاری تھے اسی جلد تعمیر کیلئے حضور کی لگن اور جذبہ دوران حضور ایک نئی آبادی کی ضروریات مہیا کرنے کے متعلق غور فرماتے رہے اور ساتھ ہی ساتھ ہدایات جاری فرماتے رہے۔مثلائی آبادی میں اہل حرفہ کی ضرورت پیش آسکتی تھی۔اس کے متعلق جماعت میں بار بار تحریک کی گئی حضور اپنے ایک خطاب میں اس امر کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ہماری تحریک پر بڑھئی، معماروں اور دیگر کاریگروں نے کئی سو کی تعداد میں مرکز میں کام کرنے کی درخواستیں دی ہیں۔میں ان سب کو اطلاع دیتا ہوں کہ اب وہ پابہ رکاب رہیں۔جس وقت بھی انہیں اطلاع دی جائے انہیں فورا ربوہ پہنچ کر کام شروع کر دینا چاہئے۔یاد رکھو ہمارا ایک ایک دن بہت قیمتی ہے اور مرکز کے قیام میں ایک ایک گھڑی کی تعویق بھی ہمارے لئے مضر ہے۔" (الفضل ۲۸۔دسمبر ۱۹۴۸ء) نئے مرکز کی اہمیت و ضرورت کے پیش نظر حضور چاہتے تھے کہ تعمیر و آبادی کے تمام مراحل