سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 91
۹۱ تہلکہ اور زلزلہ برپا کر دیا ہے اور ایک شور پیدا کر دیا ہے اور اس کی طرف تمام دنیا کی نگاہیں اُٹھا دی ہیں۔اس سے پہلے ایسی شاندار تقریب کبھی انگلستان کی تاریخ میں نظر نہیں آتی۔چنانچہ یورپ کے بڑے بڑے اخباروں نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ انگلستان میں اس قسم کا عظیم الشان نظارہ عیسائی مذہب کی تقریب پر بھی اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔یہ ان لوگوں کی آواز ہے جو انگلستان کے عیسائی ہیں ایک تو وہ لوگ انگلستان کے رہنے والے پھر عیسائی اور عیسائی بھی پختہ اور اس کے ساتھ متعصب اور قومی تعصب میں بھی تمام دنیا کے عیسائیوں سے بڑھے ہوتے ہیں اور اس تعصب کے باعث کبھی کوئی عجیب بات کسی اور قوم کی طرف منسوب ہونا پسند نہیں کرتے۔باوجود ان باتوں کے پھر ولایت کے بڑے بڑے اخبار والوں نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ بھی کوئی ایسا شاندار اجتماع اور اس قدر دیپی رکھنے والی تقریب اس سے پہلے انگلستان میں نظر نہیں آتی۔۔۔۔۔۔پھر صرف انگلستان میں ہی اس افتتاح کا چرچا نہیں بلکہ تمام ملکوں اور تمام زبانوں میں اس واقعہ کا ذکر ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔بعض اخباروں میں تین تین دن تک افتتاح کی خبروں کا تا نا لگارہا یورپ کے اخباروں کی طاقت اس قدر بڑھی ہوئی ہے کہ ایک ایک خبر کے شائع کرنے میں سبقت کرنے کے لیے ہزاروں روپیہ خرچ کر دیتے ہیں اور پھر ایک دفعہ شائع ہونے کے بعد دوسری دفعہ وہ کبھی شائع نہیں کرتے ------ لیکن افتتاح مسجد کے متعلق ولایت کے ایک ایک اخبار مثلاً ٹائمز جیسے اخبار نے بھی تین دن متواتر خبریں درج کیں اور یہ نہیں خیال کیا کہ اب یہ خبر پرانی ہو گئی ہے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ انگلستان کے ہر گھر میں مسجد کے متعلق ایک شور پڑا ہوا ہے۔اور چرچا ہو رہا ہے " اس کے بعد حضور نے جماعت کو بہت مؤثر و دلنشیں انداز میں انگریزی زبان میں معیاری ٹریچر تیار کرنے۔مالی خدمت میں زیادہ با قاعدگی اختیار کرنے اور زیادہ مستعدی و محنت سے کام لیتے ہوئے دُعاؤں میں لگے رہنے کی تلقین فرمائی۔تواریخ مسجد فضل من ) جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے امیر فصل کسی غلط فہمی کی وجہ سے افتتاح کی تقریب میں تو شامل نہ ہو سکے تاہم بعد میں غلط فہمی رفع ہونے پر وہ مسجد میں تشریف لاتے جیسا کہ ذیل کی خبر سے ظاہر ہے۔نار جولائی ۱۹۳۵ء کو ولی عہد شہزادہ امیر سعود مسجد فضل لندن میں تشریف لائے