سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 90 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 90

۹۰ انگلستان کے اخبار نویسوں اور دیگر سر بر آوردہ لوگوں کی یہ رائے ہے کہ اگر ہم دو کروڑ روپیہ بھی خرچ کرتے تو اتنی اشاعت نہ ہوئی جتنی اب ہو گئی ہے بلکہ بعض نے تو ی بھی کہا کہ دو کروڑ روپیہ نہیں دو کروڑ پونڈ بھی یہ کام نہ کرتا جو اس رو پیر نے کر دیا جو اس مسجد بہ پر خرچ ہوا" الفضل 9 نومبر ) مرکز تثلیث میں خانہ خدا کی تعمیر کی توفیق پانے کا ایک اور پہلو سے ذکر کرتے ہوئے حضرت فضل عمرہ فرماتے ہیں :۔" پندرہ سال سے مسلمان کوشش کر رہے تھے مسلمان حکومتیں ان کی تائید میں تھیں۔دولت مند لوگ اس کے لیے تیار تھے مگر باوجود ان سب باتوں کے وہ کچھ نہ کر سکے اور کوئی مسجد وہاں کھڑی نہ کرسکے لیکن احمدی قوم نے جب اس کام کا بیڑا اٹھی تو کام کر لیا اور ایک مسجد وہاں مکمل کر دی۔سلطان عبد الحمید ترکی کے سابق بادشاہ ہندوستان کے روساء اور دوسری مسلمان سلطنتیں اور مسلمان امراء سب ہی اس کی تائید میں تھے کہ ضرور لندن میں ایک مسجد بنانی چاہئے۔مگر وہ باوجود ہرقسم کے سامان ہونے کے نہ بنا سکے ، لیکن احمدیوں نے جب اس مسجد کا ارادہ کیا تو اسے کوئی دیر نہ لگی۔کلکتہ کے انگلشمین نے بھی یہی لکھا ہے کہ مسلمانوں کی ہیں پچیس سال کی کوشش تھی حکومتیں بھی اس خیال میں تھیں ، لیکن احمدیوں کو اس میں کامیابی ہوئی اور انہوں نے جب ارادہ کیا کہ ایک مسجد لندن میں بنانی چاہیئے تو فوراً بنا لی " الفضل 9 نومبر ة ) اس با برکت تقریب کا پریس میں بھی خوب چرچا ہوا۔ایونگ سٹینڈرڈ۔ڈیلی میل۔ڈیلی ایکو - ڈیلی ایمپریس۔ویسٹ منسٹر گزٹ - برسٹل ایوننگ نیوز- ریفری - ایونگ سٹینڈرڈ ٹائمز - ابزرور ڈیلی ٹیلی گراف۔ڈیلی کرانیکل۔مارننگ پوسٹ ناردرن ایکو ساؤتھ ویلیز نیوز - یارک شائر پوسٹ۔مانچسٹر گارڈین وغیرہ بلند پایہ اخبارات نے اس تقریب کا بڑی تفصیل سے ذکر کیا بلکہ بعض اخبارات رجین میں ٹائمز بھی شامل تھا، نے اس تقریب کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ایک سے زیادہ دفعہ اسکے متعلق لکھا۔مسجد کے افتتاح اور جماعت کو اس مہتم بالشان واقعہ سے کما حقہ فائدہ اٹھا نے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت فضل عمرہ فرماتے ہیں :۔۔۔۔۔۔اس تقریب اور اس شاندار افتتاح پر جس طرح اللہ تعالیٰ نے دنیامیں ایک دید