سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 48
اور پھر آخر میں وہ وقت آتا ہے جب نظام بھی سو جاتا ہے اور عوام بھی سو جاتے ہیں تب آسمان سے خدا تعالیٰ کا فرشتہ اترتا ہے اور اس قوم کی روح کو قبض کر لیتا ہے۔یہ قانون ہمارے لیے بھی جاری ہے۔جاری رہے گا اور کبھی بدل نہیں سکے گا۔پس اس قانون کو دیکھتے ہوئے ہماری پہلی کوشش یہی ہونی چاہیے کہ ہمارا نظام بھی بیدار رہے اور ہمارے عوام بھی بیدار رہیں اور در حقیقت یہ زمانہ اسی بات کا تقاضا کرتا ہے۔خدا کا میسج ہم میں ابھی قریب ترین زمانہ میں گذرا ہے۔اس لیے اس زمانہ کے مناسب حال ہمارا نظام بھی بیدار ہونا چاہیتے اور ہمارے عوام بھی بیدار ہونے چاہئیں۔مگر چونکہ دنیا میں اضمحلال اور قوتوں کا انکسار انسان کے ساتھ ساتھ لگا ہوا ہے۔اس لیے عوام کی کوشش یہ ہونی چاہیئے کہ وہ نظام کو جگاتے رہیں اور نظام کی کوشش یہ ہونی چاہیئے کہ وہ عوام کو جگاتا رہے۔تا خدانخواستہ اگر ان دونوں میں سے کوئی سو جاتے۔غافل ہو جائے اور اپنے فرائض کو بھول جائے تو دوسرا اس کی جگہ لے لے۔اور اس طرح ہم زیادہ سے زیادہ اس دن کو بعید کر دیں جب نظام اور عوام دونوں سو جاتے ہیں اور خُدائی تقدیر موت کا فیصلہ صادر کر دیتی ہے۔میں دونوں کو اپنے اپنے فرض ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔تاکہ اگر دونوں نہ جاگیں تو کم از کم ایک تو جاگے۔اور اس طرح وہ دن جو موت کا دن ہے ہم سے زیادہ سے زیادہ دُور رہے۔" الفضل ۷ار نومبر ۱۴۳ ہماری جماعت کو نیکی تقوی - عبادت گذاری - دیانت - راستی اور عدل و انصاف میں ایسی ترقی کرنی چاہیئے کہ نہ صرف اپنے بلکہ غیر بھی اس کا اعتراف کریں۔اسی غرض کو پورا کرنے کے لیے میں نے خدام الاحمدیہ - انصار اللہ اور لجنہ امام اللہ کی تحریکات جاری کی الفضل ۲۱ فروری ۱۹۲۳) ہیں۔ایک پھول کسی گھر میں لگا ہوا ہو تو تمام گھرکے افراد کو اس کے وجود کا احساس ہو جاتا ہے اور مشخص کے ناک میں جب ہوا داخل ہوتی ہے وہ فوراً سمجھ جاتا ہے کہ اس گھر میں گلاب لگا ہوا ہے یا موتیا لگا ہوا ہے یا چنبیلی کا پودا لگا ہوا ہے تو زندگی کے آثار ہونے ضروری ہیں۔ان آثار کے بغیر کوئی شخص زندہ نہیں کہلا سکتا۔چاہے بظاہر وہ زندہ ہی دکھائی دے۔جب کوئی شخص اس دنیا میں آتا ہے تو اسے دنیا میں اپنی زندگی کا کوئی ثبوت دینا۔