سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 47
کو بیدار کرتے رہیں تو کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ کسی وقت جماعت کلی طور پر گر جائے اور اس کا قدیم ترقی کی طرف اُٹھنے سے رک جائے جب بھی ایک غافل ہو گا دوسرا اسے جگانے کے لیے تیار ہو گا۔جب بھی ایک شست ہوگا دوسرا اسے ہوشیار کرنے کے لیے آگے نکل آتے گا کیونکہ وہ دونوں ایک حصہ کے نمائندہ ہیں۔ایک نمائندہ ہیں نظام کے اور دوسرے نمائندہ ہیں عوام کے۔بعض دفعہ اگر نظام کے نمائندے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں غفلت اور کوتاہی سے کام لیں گے تو عوام کے نمائندے ان کو بیدار کر دیں گے۔اور جب عوام کے نمائندے غافل ہونگے تو نظام کے نمائندے ان کی بیداری کا سامان پیدا کریں گے " الفضل در نومبر ۳ة ) یاد رکھو اگر اصلاح جماعت کا سارا دارو مدار نظارتوں پر ہی رہا تو جماعت احمدیہ کی زندگی کبھی کبھی نہیں ہو سکتی۔یہ خدائی قانون ہے جو کبھی بدل نہیں سکتا کہ ایک حصہ سوئے گا اور ایک حصہ جاگے گا۔ایک حصہ غافل ہو گا اور ایک حصہ ہوشیار ہو گا۔خدا تعالیٰ نے دنیا کو گول بنا کر فیصلہ کر دیا ہے کہ اس کے قانون میں یہ بات داخل ہے کہ دنیا کا ایک حصہ سوتے اور ایک حصہ جاگے۔۔۔۔۔یہی نظام اور عوام کے کام کا تسلسل دونیا میں دکھائی دیتا ہے جو در حقیقت پر تو میں تقدیر اور تدبیر کے کبھی عوام سوتے ہیں اور نظام جاگتا ہے اور کبھی نظام سوتا ہے اور عوام جاگتے ہیں۔اور بھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ نظام بھی جاگتا ہے اور عوام بھی جاگتے ہیں اور وہ وقت بڑی بھاری کامیابی اور فتوحات کا ہوتا ہے۔وہ گھڑیاں جب کسی قوم پر آتی ہیں۔جب نظام بھی بیدار ہوتا ہے اور عوام بھی بیدار ہوتے ہیں تو وہ اس قوم کے لیے فتح کا زمانہ ہوتا ہے وہ اس قوم کے لیے کامیابی کا زمانہ ہوتا ہے۔وہ اس قوم کے لیے ترقی کا زمانہ ہوتا ہے۔وہ شیر کی طرح گرجتی اور سیلاب کی طرح بڑھتی چلی جاتی ہے۔ہر روک جو اس کے راستہ میں حائل ہوتی ہے اسے مٹا ڈالتی ہے۔ہر عمارت جو اس کے سامنے آتی ہے اسے گرا دیتی ہے۔ہر چیز جو اس کے سامنے آتی ہے اسے بکھیر دیتی ہے اور اس طرح وہ دیکھتے ہی دیکھتے چاروں طرف۔اس طرف بھی اور اس طرف بھی بڑھتی چلی جاتی ہے اور دنیا پر اس طرح چھا جاتی ہے کہ کوئی قوم اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔مگر پھر ایک وقت ایسا آجاتا ہے جب نظام سو جاتا ہے اور عوام جاگتے ہیں یا عوام سو جاتے ہیں اور نظام جاگتا ہے