سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 39
۳۹ سے ہونا ان کی مرضی پر موقوف ہوگا۔لیکن جو پریذیڈنٹ یا امیر یا سیکرٹری ہیں۔ان کے لیے یہ لازمی ہے کہ وہ کسی نہ کسی مجلس میں شامل ہوں۔کوئی امیر نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنی عمر کے لحاظ انصار الله یا خدام الاحمدیہ کا مہر نہ ہو۔اور کوئی سیکرٹری نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنی عمر کے لحاظ سے انصار اللہ یا خدام الاحمدیہ کا مر نہ ہو۔اگر اس کی عمر پندرہ سال سے اوپر اور چالیس سال سے کم ہے تو اس کے لیے خدام الاحمدیہ کا میر ہونا ضروری ہوگا اور اگر وہ چالیس سال سے اوپر ہے تو اس کے لیے انصار اللہ کا ممبر ہونا ضروری ہوگا۔اس طرح ڈیڑھ سال تک دیکھنے کے بعد خدا نے چاہا تو آہستہ آہستہ باہر بھی ان مجالس میں شامل ہونا لازمی کر دیا جائے گا۔کیونکہ احمدیت صحابہ کے نقش قدم پر ہے۔صحابہ سے جب جہاد کا کام لیا جاتا تھا تو ان کی مرضی کے مطابق نہیں لیا جاتا تھا بلکہ کہا جاتا تھا کہ جاؤ اور الفضل یکم اگست واته ) کام کرو مجلس کے اغراض و مقاصد اور انصار اللہ کوان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوتے آپ نے فرمایا :- میں انصار اللہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ ان میں سے بہت سے وہ ہیں جو یا صحابی ہیں یا کسی صحابی کے بیٹے ہیں یا کسی صحابی کے شاگرد ہیں۔اس لیے جماعت میں نمازوں۔دُعاؤں اور تعلق باللہ کو قائم رکھنا ان کا کام ہے۔ان کو تتحدہ ذکر الہی اور مساجد کی آبادی میں اتنا حصہ لینا چاہیئے کہ نوجوان ان کو دیکھ کر خود ہی ان باتوں کی طرف مائل ہو جائیں۔) الفضل ۱۵ر دسمبر ۵۵ ) پھر آپ نے فرمایا :- مجلس انصاراللہ کے قیام کی غرض یہ ہے کہ عمر کے اس حصہ میں جب انسان عمل میں سست ہو جاتا ہے۔دین کے کاموں میں سُست نہ ہو۔اور وہ اپنے آپ کو بے کا راور عضو معطل خیال نہ کرے بلکہ سمجھے کہ وہ بھی ابھی کام کرنے کا اہل ہے جب خدام الاحمدیہ چالیس سالہ مر کے بعد انصار اللہ میں شامل ہوتے جائیں گے تو خدام الاحمدیہ کی تنظیم کے نتیجہ میں چونکہ ان میں بیداری اور ہوشیاری پیدا ہو چکی ہو گی اس لیے وہ یہی بیداری اور ہوشیاری انصار میں پیدا کرنے کی کوشش کریں گے اور اپنے مشوروں اور نیک نمونوں