سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 375 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 375

۳۷۵ سامنے نشان دکھایا جائے اور اسلام کے خُدا کا قادر ہونا ثابت کیا جائے۔پانچویں عرض یہ بیان کی گئی تھی کہ تا وہ یقین لائیں کہ میں تیرے ساتھ ہوں۔اگر اس پیشگوئی نے چار سو سال کے بعد ہی پورا ہوتا تھا۔تو اس زمانہ کے لوگ سیکس طرح یقین کر سکتے تھے کہ خدا تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ہے۔چھٹی غرض یہ بیان کی گئی تھی کہ تا انہیں جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں لاتے اور خدا اور اس کے دین اور اس کی کتاب اور اس کے پاک رسول محمد مصطفے کو انکار اور تکذیب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ایک گلی نشانی ملے۔اس کے معنی بھی یہی بنتے ہیں کہ وہ لوگ جو میرے زمانہ میں اسلام کی تکذیب کر رہے ہیں۔انکے سامنے میں یہ پیشنگوئی کرتا ہوں۔کہ انہیں اسلام کی صداقت کی ایک بڑی کھلی نشانی ملے گی۔مگر ملے گی چار سو سال کے بعد جب موجودہ زمانہ کے لوگوں بلکہ اُن کی اولادوں اور ان کی اولادوں میں سے بھی کوئی زندہ نہیں ہوگا۔ساتویں آپ نے بیان فرمایا کہ یہ پیشنگوئی اس لیے کی گئی ہے تاکہ مجرموں کی راہ ظاہر ہو جاتے اور پتہ لگ جاتے کہ وہ جھوٹے ہیں۔چار سو سال کے بعد آنے والے وجود سے اس زمانہ کے لوگوں کو کیونکر پتہ لگ سکتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہے تھے ؟ ) الموعود صفحه ۳۸ تا ۴۲) اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا زندہ ثبوت اس معرکتہ الآراء خطاب کے آخر میں حضور نے نہایت پر شوکت الفاظ میں اتمام حجت کرتے ہوئے ا علان فرمایا : " میں کہتا ہوں اور خدا تعالیٰ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں اور مجھے ہی اللہ تعالیٰ نے اُن پیشگوئیوں کا مورد بنایا ہے جو ایک آنے والے بوعود کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائیں۔جو شخص سمجھتا ہے کہ میں نے افتراء سے کام لیا ہے یا اس بارہ میں جھوٹ اور کذب بیانی کا ارتکاب کیا ہے وہ آئے اور اس معامہ میں میرے ساتھ مباہلہ کرلے۔اور یا پھر اللہتعالیٰ کی موکد بعذاب قسم کھا کر اعلان کمر دے کہ اسے خُدا نے کہا ہے کہ میں جھوٹ سے کام لے رہا ہوں۔پھر اللہ تعالیٰ خود بخود اپنے آسمانی نشانات سے فیصلہ فرما دے گا کہ کون کا ذہب ہے اور کون صادق۔۔۔۔۔۔۔غرض